اشاعتیں

لطف ان کا عام ہو ہی جائے گا | Lutf Unka Aam Ho Hi Jayega Lyrics in Urdu

لُطْف اُن کا عام ہو ہی جائے گا شاد ہر ناکام ہو ہی جائے گا جان دے دو وعدۂ دیدار پر نَقْد اپنا دام ہو ہی جائے گا شاد ہے فردوس یعنی ایک دن قسمتِ خُدّام ہو ہی جائے گا یاد رہ جائیں گی یہ بے باکیاں نَفْس ! تُو تو رام ہو ہی جائے گا بے نِشانوں کا نِشاں مِٹتا نہیں مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا یادِ گیسو ذکرِ حق ہے، آہ کر دل میں پیدالام ہو ہی جائے گا ایک دن آواز بدلیں گے یہ ساز چہچہا کُہرام ہو ہی جائے گا سائلو ! دامن سخی کا تھام لو کچھ نہ کچھ اِنعام ہو ہی جائے گا یادِ ابرُو کر کے تڑپو، بُلبُلو! ٹُکڑے ٹُکڑے دام ہو ہی جائے گا مُفلِسو ! اُن کی گلی میں جا پڑو باغِ خُلد اِکرام ہو ہی جائے گا گر یونہی رحمت کی تاوِیلیں رہیں مَدْح ہر اِلزام ہو ہی جائے گا بادہ خواری کا سماں بندھنے تو دو شیخ دُرْد آشام ہو ہی جائے گا غم تو اُن کو بُھول کر لِپٹا ہے یُوں جیسے اپنا کام ہو ہی جائے گا مِٹ ! کہ گر یونہی رہا قرضِ حیات جان کا نِیلام ہو ہی جائے گا عاقِلو ! اُن کی نظر سیدھی رہے بَوروں کا بھی کام ہو ہی جائے گا اب تو لائی ہے شفاعت عَفْو پر بڑھتے بڑھتے عام ہو ہی جائے گا اے رضا ! ہر کام ک...

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے | Chamak Tujh Se Pate Hain Sab Pane Wale Lyrics in Urdu

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے مِرا دِل بھی چمکا دے چمکانے والے برستا نہیں دیکھ کر اَبْرِ رَحمت بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے مَدینہ کے خِطّے ! خدا تجھ کو رکّھے غریبوں فقیروں کے ٹھہرانے والے تُو زندہ ہے واللہ تُو زندہ ہے واللہ مِرے چشمِ عالَم سے چُھپ جانے والے میں مجرم ہُوں، آقا ! مجھے ساتھ لے لو کہ رَستے میں ہیں جا بجا تھانے والے حرم کی زَمیں اور قدم رکھ کے چلنا ارے سر کا موقع ہے، او جانے والے ! چل اُٹھ جبہہ فرسَا ہو ساقی کے در پر درِ جُود اے میرے مستانے والے تِرا کھائیں تیرے غُلاموں سے اُلجھیں ہیں مُنکِر عجب کھانے غُرّانے والے رہے گا یوں ہی اُن کا چرچَا رہے گا پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے اب آئی شفاعت کی سَاعت اب آئی ذرا چین لے، میرے گھبرانے والے ! رضا ! نفس دشمن ہے دَم میں نہ آنا کہاں تم نے دیکھے ہیں چندرانے والے شاعر: امام احمد رضا خان نعت خواں: اویس رضا قادری میلاد رضا قادری حافظ احمد رضا قادری غلام مصطفیٰ قادری صابر رضا اظہری سورت हिन्दी ENG اردو

پھر اٹھا ولولۂ یاد مغیلان عرب | Phir Utha Walwala-e-Yaad-e-Mugheelan-e-Arab Lyrics in Urdu

پھر اُٹھا وَلولۂ یادِ مُغِیلانِ عرب پھر کِھنچا دامنِ دل سُوئے بیابانِ عرب باغِ فردوس کو جاتے ہیں ہزارانِ عرب ہائے صحرائے عرب ہائے بیابانِ عرب مِیٹھی باتیں تِری دینِ عجم ایمانِ عرب نَمکیں حُسن، تِرا جانِ عجم شانِ عرب اب تو ہے گریۂ خوں گوہر دامانِ عرب جس میں دو لعل تھے زہرا کے وہ تھی کانِ عرب دل وہی دل ہے جو آنکھوں سے ہو حیرانِ عرب آنکھیں وہ آنکھیں ہیں جو دل سے ہوں قُربانِ عرب ہائے کس وقت لگی پھانس اَلم کی دل میں کہ بہت دُور رہے خارِ مُغِیلانِ عرب فَصْلِ گُل لاکھ نہ ہو وَصْل کی رکھ آس ہزا ر پھولتے پھلتے ہیں بے فَصْل گُلستانِ عرب صدقے ہونے کو چلے آتے ہیں لاکھوں گُلزار کچھ عجب رنگ سے پُھولا ہے گُلِستانِ عرب عَنْدَلِیْبِی پہ جھگڑتے ہیں کٹے مَرتے ہیں گُل و بُلبُل کو لڑاتا ہے گُلِستانِ عرب صدقے رحمت کے کہاں پُھول کہاں خار کا کام خود ہے دامن کشِ بُلبُل گُلِ خندانِ عرب شادیِ حشر ہے صَدْقے میں چُھٹیں گے قیدی عرش پر دُھوم سے ہے دَعوتِ مہمانِ عرب چرچے ہوتے ہیں یہ کمھلائے ہوئے پھولوں میں کیوں یہ دن دیکھتے پاتے جو بیابانِ عرب تیرے بے دام کے بندے ہیں رئیسانِ عجم تیرے بے دا...

ہے کلام الٰہی میں شمس و ضحٰے ترے چہرۂ نور فزا کی قسم | Hai Kalam-e-Ilahi Mein Shams-o-Duha Lyrics in Urdu

ہے کلامِ الٰہی میں شَمس و ضُحٰے، تِرے چہرۂ نُور فزا کی قسم قسمِ شبِ تار میں راز یہ تھا، کہ حبیب کی زُلْفِ دوتا کی قسم تِرے خُلْق کو حق نے عظیم کہا، تِری خِلْق کو حق نے جمیل کِیا کوئی تجھ سا ہُوا ہے نہ ہو گا، شہا ! تِرے خالقِ حُسن و ادا کی قسم وہ خُدا نے ہے مرتبہ تجھ کو دِیا، نہ کِسی کو مِلے نہ کِسی کو مِلا کہ کلامِ مجید نے کھائی، شہا ! تِرے شہر و کلام و بقا کی قسم تِرا مَسْنَدِ ناز ہے عرشِ بریں، تِرا محرمِ راز ہے رُوحِ امیں تُو ہی سرورِ ہر دو جہاں ہے، شہا ! تِرا مِثل نہیں ہے خُدا کی قسم یہی عرض ہے خالقِ ارض و سما، وہ رسول ہیں تیرے میں بندہ تِرا مجھے اُن کے جوار میں دے وہ جگہ، کہ ہے خُلْد کو جس کی صفا کی قسم تُو ہی بندوں پہ کرتا ہے لُطْف و عطا، ہے تجھی پہ بھروسا تجھی سے دُعا مجھے جلوۂ پاکِ رسول دِکھا، تجھے اپنے ہی عِزّ و عُلا کی قسم مِرے گرچہ گناہ ہیں حد سے سِوا، مگر اُن سے اُمید ہے تجھ سے رجا تُو رحیم ہے اُن کا کرم ہے گوا، وہ کریم ہیں تیری عطا کی قسم یہی کہتی ہے بُلبُلِ باغِ جناں، کہ رضا کی طرح کوئی سِحر بَیاں نہیں ہِند میں واصفِ شاہِ ہُدیٰ، مجھے شوخیِ طبعِ رضا کی ...

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا | Wah Kya Jood-o-Karam Hai Shah-e-Batha Tera Lyrics in Urdu

واہ کیا جُود و کرم ہے، شہِ بَطْحا ! تیرا نہیں سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا تارے کِھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذَرّہ تیرا فیض ہے، یا شہِ تسنیم ! نِرالا تیرا آپ پیاسوں کے تَجَسُّس میں ہے دریا تیرا اَغنیا پلتے ہیں دَر سے وہ ہے باڑا تیرا اَصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رَستا تیرا فَرْش والے تیری شوکت کا عُلُو کیا جانیں خُسروا ! عرش پہ اُڑتا ہے پَھریرا تیرا آسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمان صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا میں تو مالِک ہی کہوں گا کہ ہو مالِک کے حبیب یعنی محبوب و مُحِب میں نہیں میرا تیرا تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا بحرِ سائل کا ہُوں سائل نہ کنوئیں کا پیاسا خود بُجھا جائے کلیجا مِرا چِھینٹا تیرا چور حاکم سے چُھپا کرتے ہیں یاں اِس کے خلاف تیرے دامن میں چُھپے چور انوکھا تیرا آنکھیں ٹھنڈی ہوں، جِگر تازے ہوں، جانیں سیراب سچّے سُورج وہ دِل آرا ہے اُجالا تیرا دل عبث خوف سے پتّا سا اُڑا جاتا ہے پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرا ایک میں کیا میرے عِصیاں کی حقیقت کتنی مجھ سے س...

آنکھوں کا تارا نام محمد | Aankhon Ka Tara Naam-e-Muhammad Lyrics in Urdu

آنکھوں کا تارا نامِ محمّد دل کا اُجالا نامِ محمّد اَللّٰہُ اَکْبَر ربُّ الْعُلیٰ نے ہر شے پہ لِکّھا نامِ محمّد ہیں یُوں تو کثرت سے نام لیکن سب سے ہے پیارا نامِ محمّد دولت جو چاہو دونوں جہاں کی کر لو وظیفہ نامِ محمّد شیدا نہ کیوں ہوں اِس پر مُسلماں رب کو ہے پیارا نامِ محمّد اللّٰہ والا دم میں بنا دے اللّٰہ والا نامِ محمّد صلِّ عَلیٰ کا سہرا سجا کر دولہا بنایا نامِ محمّد نوح و خلیل و موسیٰ و عیسیٰ سب کا ہے آقا نامِ محمّد سارے چمن میں، لاکھوں گُلوں میں گُل ہے ہزارا نامِ محمّد پائیں مُرادیں دونوں جہاں میں جس نے پُکارا نامِ محمّد دونوں جہاں میں دنیا و دیں میں ہے اِک وسیلہ نامِ محمّد مومن کو کیوں ہو خطرہ کہیں پر دل پر ہے کُندہ نامِ محمّد رکّھو لحد میں جس دم، عزیزو ! مجھ کو سُنانا نامِ محمّد پڑھتی درودیں دوڑیں گی حُوریں لاشہ جو لے گا نامِ محمّد روزِ قیامت میزان و پُل پر دے گا سہارا نامِ محمّد پوچھے گا مولیٰ، لایا ہے کیا کیا ! میں یہ کہوں گا نامِ محمّد رنج و الم میں ہیں نام لیوا کر دے اِشارہ نامِ محمّد بیڑا تبائی میں آ گیا ہے دے دے سہارا نامِ محمّد زخمی جِگ...

رخ دن ہے یا مہر سما یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں | Rukh Din Hai Ya Mehr-e-sama Ye Bhi Nahin Wo Bhi Nahin Lyrics in Urdu

رُخ دن ہے یا مہرِ سَما، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں شب زُلف یا مُشکِ خُتا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں ممکن میں یہ قدرت کہاں، واجب میں عَبدِیّت کہاں حیران ہُوں یہ بھی ہے خطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں حق یہ کہ ہیں عبدِ الٰہ اور عالمِ امکاں کے شاہ برزخ ہیں وہ سِرِّ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں بُلبُل نے گُل اُن کو کہا، قُمری نے سروِ جانفزا حیرت نے جھنجھلا کر کہا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں خورشید تھا کس زور پر، کیا بڑھ کے چمکا تھا قمر بے پردہ جب وہ رُخ ہُوا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں ڈر تھا کہ عِصیاں کی سزا، اب ہوگی یا روزِ جزا دی اُن کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں کوئی ہے نازاں زُہد پر، یا حُسنِ توبہ ہے سِپر یاں ہے فقط تیری عطا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں دن لَہْو میں کھونا تجھے، شب صبح تک سونا تجھے شرمِ نبی خوفِ خدا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں رزقِ خدا کھایا کِیا، فرمانِ حق ٹالا کِیا شُکرِ کرم ترسِ سزا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں ہے بُلبُلِ رنگیں رضا ، یا طوطیِ نغمہ سرا حق یہ کہ واصِف ہے تِرا، یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں شاعر: امام احمد رضا خان نعت خواں: اویس رضا قادری हि...

ذرے جھڑ کر تری پیزاروں کے | Zarre Jhad Kar Teri Paizaron Ke Lyrics in Urdu

ذرّے جھڑ کر تِری پیزاروں کے تاجِ سَر بنتے ہیں سَیّاروں کے ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم خِلْعَتِ زر بنیں پُشتاروں کے میرے آقا کا وہ در ہے جس پر ماتھےگِھس جاتے ہیں سرداروں کے میرے عیسیٰ ! تِرے صدقے جاؤں طور بے طور ہیں بیماروں کے مجرمو ! چشمِ تَبَسُّم رکّھو پُھول بن جاتے ہیں انگاروں کے تیرے اَبرو کے تَصَدُّق پیارے بند کرّے ہیں گرفتاروں کے جان و دل تیرے قدم پر وارے کیا نصیبے ہیں تِرے یاروں کے صِدْق و عَدل و کرم و ہِمّت میں چار سو شُہرے ہیں اِن چاروں کے بہرِ تَسلیمِ علی میداں میں سر جھکے رہتے ہیں تلواروں کے کیسے آقاؤں کا بندہ ہُوں، رضا ! بول بالے مِری سرکاروں کے شاعر: امام احمد رضا خان نعت خواں: اویس رضا قادری غلام مصطفیٰ قادری اسد رضا عطاری हिन्दी ENG اردو

سحر کی فضا میں جو اک روشنی ہے | وہ میرے نبی کی ہی جلوہ گری ہے | Wo Mere Nabi Ki Hi Jalwagari Hai Lyrics in Urdu

سحر کی فضا میں جو اِک روشنی ہے وہ میرے نبی کی ہی جلوہ گری ہے نبی کی محبّت ہے ایماں کا محور یہی بندگی ہے، یہی زِندگی ہے ملک ہوں بشر ہوں، فلک ہوں زمیں ہو سبھی پر، حضور ! آپ کی سروری ہے ترستی ہے خوشبو بھی چُھونے کو دامن وہ خوشبو جو زُلفِ نبی سے چلی ہے ہے سجّاد کے لب پہ نامِ محمّد یہی نام ایمان کی تازگی ہے نعت خواں: سید حسان اللہ حسینی हिन्दी ENG اردو

مال و دولت کی چاہت بڑی چیز ہے | یا نبی آپ کا آستانہ ملے | Mal-o-Daulat Ki Chahat Badi Cheez Hai Lyrics in Urdu

مال و دولت کی چاہت بڑی چیز ہے مِٹنے والی تمنّا نہیں چاہیے یا نبی ! آپ کا آستانہ مِلے اور کوئی خزانہ نہیں چاہیے موت کے وقت کا ڈر ستاتا ہے اب بِسترِ مَرْگ ہے اور ہے جاں بہ لب آخری وقت ہے آپ آ جائیے مرنے والے کو دنیا نہیں چاہیے مصطفیٰ کی غلامی مِلی ہے مجھے خوبصورت نِشانی مِلی ہے مجھے جن کا سایہ نہیں اُن کے سائے میں ہُوں مجھ کو غیروں کا سایہ نہیں چاہیے رو رہا ہے گُنہگار تنہائی میں میرے اپنے بھی ہیں میری رُسوائی میں آپ کے سامنے ہُوں کرم کیجیے دُوسروں کا سہارا نہیں چاہیے ہے وفا کا امیں یارِ غارِ نبی جس کے پیچھے علی نے نمازیں پڑھی اُس کو چوتھا خلیفہ بھی ٹُھکرائے گا جس کو پہلا خلیفہ نہیں چاہیے ایسے کِردار ہیں اُن کے دربار میں جن کا ثانی نہیں کوئی سنسار میں میرے آگے سخاوت ہے عُثمان کی مجھ کو حاتِم کا قِصّہ نہیں چاہیے عاشقِ مصطفیٰ باپ نے یہ کہا میری بیٹی غریبوں کے گھر جائے گی جن کے دل میں نبی کی محبّت نہیں اُن امیروں کا رِشتہ نہیں چاہیے عشقِ سرکار ہم کو مِلا ہے یہیں چھوڑ کر ہم نہ جائیں گے یہ در کہیں اعلیٰ حضرت کا نقشِ قدم مِل گیا نجدیوں کا عقیدہ نہیں چاہیے ہیں عط...

جشن نبی کریں گے بڑی دھوم دھام سے | اعلیٰ حضرت کے دیوانے | Ala Hazrat Ke Deewane Lyrics in Urdu

جشنِ نبی کریں گے بڑی دُھوم دھام سے مطلب نہیں ہے ہم کو یزیدی نِظام سے تکلیف جس کو ہوگی دُرُود و سلام سے تکلیف اُس کو دیں گے رضا کے کلام سے اعلیٰ حضرت کے دیوانے اعلیٰ حضرت کے دیوانے سُن کر رضا کا ذِکر طلبگار ہو گئے جو سو رہے تھے نیند سے بیدار ہو گئے جب بات آ گئی ہے نبی کے وقار پر یہ جان لُٹانے کو بھی تیّار ہو گئے اعلیٰ حضرت کے دیوانے اعلیٰ حضرت کے دیوانے مرکز مِرا بریلی ہے میری وفا کے ساتھ بیمار چل رہے ہیں مُکَمّل شِفا کے ساتھ گُستاخ دیکھ لیں گے یہ میدانِ حشر میں ہیں قادری فقیر، رہیں گے رضا کے ساتھ اعلیٰ حضرت کے دیوانے اعلیٰ حضرت کے دیوانے چاروں طرف سے کُفْر کے شُعْلے اُبَل پڑے کرنے لگے حضور پہ حملے بڑے بڑے کوئی کہے حضور کو اپنی طرح بشر ذِکرِ نبی کو کوئی کہے غیر مُعتبر کوئی نبی کے عِلم پہ طعنہ زنی کرے کلمہ پڑھے اُنہیں کا، اُنہیں کو بُرا کہے توہین کر رہی تھیں یہ باطل جماعتیں مغموم ہو رہی تھیں دِلوں کی سماعتیں عاشِق نبی کے رو کے یہ کہتے تھے بار بار کب آئے گا ہمارے عقیدوں کا پہرے دار نامُوسِ مصطفیٰ کی حِفاظت کرے گا کون ؟ نجدی وہابیوں سے مُکَمّل لڑے گا کون ؟ ال...

وہی فاطمہ ہے وہی فاطمہ ہے | Wahi Fatima Hai Wahi Fatima Hai Lyrics in Urdu

نبی نے جسے دل کا ٹُکڑا کہا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے زمانہ کہاں اُس کا سمجھے گا رُتبہ کھڑے جس کی آمد پہ ہوتے تھے آقا لقب جس کو خاتُونِ جنّت مِلا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے اُسی سے سِیادت کے مہکے چمن ہیں اُسی کے تو بیٹے حُسین و حَسن ہیں کہ شوہر بھی جس کا وہ شیرِ خدا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے کِیا ذِکْر پردے کا جب فاطمہ نے تو خود رُوح اُس کی نِکالی خُدا نے اندھیرے میں جس کا جنازہ اُٹھا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے کسی سے شِکایت نہ ہونٹوں پہ شِکوے ہوئے جتنے فاقے، کیے اُتنے سجدے وہ جس نے فقیروں کو پھر بھی دِیا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے جو سردار ہے جنّتی عورتوں کی اُسی سے ہے عِزّت ہمارے گھروں کی ظفر بزمی ! ہر بیٹی جس پر فِدا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے شاعر: ظفر بزمی نعت خواں: اسلام برکاتی हिन्दी ENG اردو

حشر میں پھر ملیں گے میرے دوستو | Hashr Mein Phir Milenge Mere Dosto Lyrics in Urdu

حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! بس یہی ہے مقام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! بس یہی ہے پیام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! کہنا سب جیتے جی کے ہیں شِکوے گِلے آج سے ختم دنیا کے سب سِلسِلے شَمْع ڈھلنے کو ہے، دم نِکلنے کو ہے اب ہے قِصّہ تمام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! مجھ کو نہلا کے پہنا دیے ہیں کفن رو چُکے مِل کے ماں باپ بھائی بہن موت بھی، دوستو ! آج حیرت میں ہے ہو چُکا اِہتمام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! خوشبوؤں میں کفن کو بسانے لگے میری میّت کو دُلہن بنانے لگے دوستو ! اب اُٹھاؤ جنازہ مِرا ہو چُکا اِنتظام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! مجھ کو زیرِ زمیں لوگ دفنا گئے کس قدر سنگ دِل ہو کے فرما گئے دوستو ! چین کی نیند سوتے رہو بس یہی ہے مقام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! کیسی دنیا ہے، یارو ! غضب رے غضب چند دِنوں میں یہاں بُھول جاتے ہیں سب جس بہانے میری یاد آ جائے تو پڑھنا تم یہ کلام آخری آخری حشر میں پھر مِلیں گے، میرے دوستو ! بس یہی ہے مقام آخری آخری زندگی نے جہاں ...

سر جھکاتا ہوں میں خدا کے لئے | Sar Jhukata Hun Main Khuda Ke Liye Lyrics in Urdu

سر جُھکاتا ہُوں میں خدا کے لئے جان حاضِر ہے مصطفیٰ کے لئے ہاتھ اُٹھے بھی نہ تھے دُعا کے لئے مصطفیٰ آ گئے عطا کے لئے ساتھ زینب سکینہ صُغرٰی کے نِکلے اصغر بھی کربلا کے لئے حادثہ سر سے ٹل ہی جائے گا میری ماں ہے ابھی دُعا کے لئے ہے مُجاہد کھڑا مُصَلّے پر رُک گئی ریل اِقتِدا کے لئے میں ہر اِک نیک کام کرتا ہُوں اپنے اللہ کی رضا کے لئے جُھوم کر تم پڑھو، ندیم رضا ! نعت ہے رُوح کی غِذا کے لئے شاعر: ندیم رضا فیضی نعت خواں: ندیم رضا فیضی हिन्दी ENG اردو

مظہر نور خدا سرکار تاج الاولیاء | Mazhar-e-Noor-e-Khuda Sarkar Taj-ul-Auliya Lyrics in Urdu

مظہرِ نُورِ خدا سرکار تاج الاولیاء جلوۂ شمسُ الضُّحیٰ سرکار تاج الاولیاء مالکِ علمِ لَدُنّی، پیکرِ صبر و رضا تیورِ شیرِ خدا سرکار تاج الاولیاء روشنی جس کی ولایت کی ہے پھیلی چار سُو وہ چراغِ فاطمہ سرکار تاج الاولیاء زُہد و تقویٰ، پارسائی میں یقیناً آپ ہیں نائبِ غوث الوریٰ، سرکار تاج الاولیاء ! بیٹھے بیٹھے ہی کرا دیتے ہیں کعبے کا طواف جان لو اِس سے ہے کیا سرکار تاج الاولیاء اپنے منگتوں کو کبھی مایُوس لوٹاتے نہیں منبعِ جُود و سخا سرکار تاج الاولیاء جس طرف بھی دیکھیے ہے عُرسِ صد سالہ کی دُھوم مرحبا صد مرحبا سرکار تاج الاولیاء بٹتا ہے شام و سحر فیضان غوثِ پاک کا ایسا ہے روضہ تِرا، سرکار تاج الاولیاء ! بھیک لینے آئے ہیں منگتے تیرے دربار میں ہو کرم سب پر شہا سرکار تاج الاولیاء ! ناز کر اپنے مُقَدّر پر، اے شہرِ ناگپُور ! تجھ میں ہے جلوہ نُما سرکار تاج الاولیاء حشر تک پُھولے پَھلے یہ مسلکِ احمد رضا ہے یہی دل کی دُعا، سرکار تاج الاولیاء ! ہر طرف پھیلی ہے جو گُلزار کی یہ نِکہتیں آپ ہی کی ہے عطا، سرکار تاج الاولیاء ! شاعر: سید شاہ گلزار اسماعیل واستی قادری (گلزار ملت)...

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا | Wohi Rab Hai Jis Ne Tujh Ko Hamatan Karam Banaya Lyrics in Urdu

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تِرا آستاں بتایا تجھے حمد ہے، خدایا ! تمہِیں حاکمِ برایا، تمہِیں قاسمِ عطایا تمہِیں دافعِ بلایا، تمہِیں شافعِ خطایا کوئی تم سا کون آیا وہ کنواری پاک مریم، وہ نَفَخْتُ فِیْہ کا دم ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمِنہ کا جایا وہی سب سے افضل آیا یہی بولے سِدرہ والے، چمنِ جہاں کے تھالے سبھی میں نے چھان ڈالے تِرے پایہ کا نہ پایا تجھے یک نے یک بنایا فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ، یہ مِلا ہے تم کو مَنصَب جو گدا بنا چُکے اب اُٹھو وقتِ بخشِش آیا کرو قسمتِ عطایا وَ اِلَی الْاِلٰہِ فَارْغَبْ، کرو عرض سب کے مَطلب کہ تمہیں کو تکتے ہیں سب، کرو اُن پر اپنا سایا بنو شافعِ خطایا ارے، اے خدا کے بندو ! کوئی میرے دل کو ڈھونڈو مِرے پاس تھا ابھی تو، ابھی کیا ہُوا خدایا ! نہ کوئی گیا نہ آیا ہمیں، اے رضا ! تِرے دل کا پتا چلا بہ مشکل درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا یہ نہ پوچھ کیسا پایا کبھی خَندَہ زیرِ لب ہے، کبھی گِریہ ساری شب ہے کبھی غم کبھی طَرب ہے، نہ سبب سمجھ میں آیا نہ اُسی نے کچھ بتایا کبھی خاک پر پڑا ہے، سرِ چَرخ زیرِ پا...

خدایا دور رحمت دیکھتا میں | نبی کا حسن طلعت دیکھتا میں | Khudaya Daur-e-Rehmat Dekhta Main Lyrics in Urdu

خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں اُنہیں کے در پہ ہوتی صبح میری وہیں پر شامِ فُرقت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں مدینے کی گلی میں سَر جھکائے رسُولِ حق کی عظمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں صحابی کاش میں ہوتا نبی کا کرم کی ہر عنایت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں جبینِ شوق سجدے میں جُھکا کر عبادت کی حقیقت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں بِچھاتا اپنی پلکیں اُن کی رَہ میں عجب رنگِ عقیدت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں کبھی جو مسجد نبوی میں ہوتا جمالِ بزمِ جنّت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خُدایا ! دَورِ رحمت دیکھتا میں نبی کا حُسنِ طلعت دیکھتا میں خطیبِ کبریا کی حق بیانی وہ اعجازِ ...

جاہ و جلال دو نہ ہی مال و منال دو | Jaah-o-Jalal Do Na Hi Maal-o-Manal Do Lyrics in Urdu

جاہ و جلال دو نہ ہی مال و مَنال دو سوزِ بلال بس مِری جھولی میں ڈال دو دُنیا کے سارے غم مِرے دل سے نکال دو غم اپنا، یا حبیب ! برائے بِلال دو ہِجْر و فِراق تو مِلا، دو اِضْطِراب بھی بے تاب قَلْب از پئے سوزِ بلال دو بہتی رہے جو ہر گھڑی بس یاد میں، شہا ! وہ چشمِ اَشْکبار پئے ذُوالجلال دو سینہ مدینہ ہو مِرا، دل بھی مدینہ ہو فِکرِ مدینہ دو مجھے مدنی خیال دو ہر آن بس تَصَوُّرِ طیبہ میں گُم رہوں ایسا بُلند، شاہِ مدینہ ! خیال دو دو دَرد سُنَّتوں کا پئے شاہِ کربلا اُمّت کے دل سے لَذّتِ عصیاں نکال دو خُلقِ عظیم سے مجھے حِصّہ عطا کرو بے جا ہنسی کی خصلتِ بد کو نکال دو ذِکْر و دُرُود ہر گھڑی وِردِ زباں رہے میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو دونوں جہاں کی آفتیں، مولا ! مُصیبتیں صدقے میں میرے غوث کے، سرکار ! ٹال دو عطّار کو بُلا کے مدینے میں دو بقیع دو پھولوں کے طُفَیْل ہوں پُورے سُوال دو شاعر: محمد الیاس عطار قادری نعت خواں: اویس رضا قادری حاجی مشتاق عطاری हिन्दी ENG اردو

اے حبیب احمد مجتبیٰ دل مبتلا کا سلام لو | Aye Habib Ahmad-e-Mujtaba Dil-e-Mubtala Ka Salam Lo Lyrics in Urdu

اے حبیب احمدِ مجتبیٰ ! دلِ مبتلا کا سلام لو جو وفا کی راہ میں کھو گیا، اُسی گُمشُدہ کا سلام لو میں طلب سے باز نہ آؤں گا، تُو کرم کا ہاتھ بڑھائے جا جو تِرے کرم سے ہے آشنا، اُسی آشنا کا سلام لو تِرے آستاں کی تلاش میں، تِری جُستجو کے خیال میں جو لُٹا چُکا ہے متاعِ دل، اُسی بے نوا کا سلام لو کوئی مر رہا ہے بہشت پر، کوئی چاہتا ہے نجات کو میں تجھی کو چاہوں خدا کرے، مِری اِس وفا کا سلام لو تیرے غم نے مجھ کو پناہ دی، تِرے غم سے مجھ کو ہے واسطہ مِرے آنسوؤں کی زبان سے دلِ غم نوا کا سلام لو مِری حاضری ہو مدینے میں، مِلے لُطف مجھ کو بھی جینے میں تِرا نور ہو مِرے سینے میں، میری اِس دُعا کا سلام لو وہ حُسین جس نے چِھڑک کے خُوں چمنِ وفا کو ہرا کِیا اُسی جاں نثار کا واسطہ، کہ ہر اِک گدا کا سلام لو یہی روز و شب ہے دُعائے دل، کہ مَرُوں تو تیرے دیار میں یہی مُدّعائے حیات ہے، اِسی مُدّعا کا سلام لو تمام اولیاء کے بلند سر ہیں قدم پہ جن کے جھکے ہوئے اسی پیارے غوث کا واسطہ، کہ ہر اِک گدا کا سلام لو وہ سعید خستہ و بے نوا، وہ قتیل تیغِ فراق کا جسے شوق ہے تِری دید کا، اُسی غمزدہ کا سلام لو ...

عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزوئے رسول | Adam Se Layi Hai Hasti Mein Aarzoo-e-Rasool Lyrics in Urdu

عدم سے لائی ہے ہستی میں آرزُوئے رسول کہاں کہاں لیے پھرتی ہے جُستجُوئے رسول خوشا وہ دل کہ ہو جس دل میں آرزُوئے رسول خوشا وہ آنکھ جو ہو محوِ حُسنِ رُوئے رسول تلاشِ نقشِ کفِ پائے مصطفیٰ کی قسم چُنے ہیں آنکھوں سے ذرّاتِ خاکِ کُوئے رسول پھر اُن کے نشّۂ عرفاں کا پُوچھنا کیا ہے جو پی چُکے ہیں ازل میں مئے سُبُوئے رسول بلائیں لُوں تِری اے جذبِ شوقِ صلِّ علیٰ کہ آج دامنِ دل کِھچ رہا ہے سُوئے رسول شگُفتہ گُلشنِ زہرا کا ہر گُلِ تَر ہے کسی میں رنگِ علی اور کسی میں بُوئے رسول اِلٰہی ! حشر کے دن اِس لِباس میں اُٹُّھوں مَلی ہوئی ہو میرے تن سے خاکِ کُوئے رسول عجب تماشا ہو میدانِ حشر میں، بیدم ! کہ سب ہوں پیشِ خدا اور میں رُو برُوئے رسول شاعر: بیدم شاہ وارثی نعت خوان: فرید ایاز حاجی تسلیم عارف اسد اقبال کلکتوی हिन्दी ENG اردو

بقائے اللہ اکبر حسین کا خیمہ | Baqa-e-Allahu Akbar Hussain Ka Khaima Lyrics in Urdu

بقائے اللہ اکبر حُسین کا خیمہ نبی کے دین کا محور حُسین کا خیمہ نبی کا دین ٹِکا ہے اِنہی سُتُونوں پر ہے جن سُتُونوں کے اُوپر حُسین کا خیمہ بڑے بڑوں سے بچایا گیا نہ تختِ یزید بچا کے لے گئے اصغر حُسین کا خیمہ غلاظتوں کے اندھیرے یزیدی خیموں میں عبادتوں سے مُنَوَّر حُسین کا خیمہ جنابِ سیّدہ زہرا نے اِس کو اوڑھا ہے یہ جو لپیٹے ہے چادر حُسین کا خیمہ اسی میں رہتے ہیں شیرِ خدا کے شیر سبھی سنبھل کے دیکھ، اے لشکر ! حُسین کا خیمہ لگا رہا ہے یہ نعرہ "حُسین زندہ باد" یزیدی محل پہ چڑھ کر حُسین کا خیمہ جو ہاتھ بڑھتا ہے ناموسِ دین کی جانب تو کاٹ دیتا ہے بڑھ کر حُسین کا خیمہ کھڑا ہے فخر سے صبر و رضا کے پیکر میں زمینِ کرب و بلا پر حُسین کا خیمہ کھڑے ہیں طالبِ بیعت جُھکائے سر اپنا کھڑا ہے سر کو اُٹھا کر حُسین کا خیمہ یہ جب سے چاند مُحَرَّم کا آ گیا ہے نظر بنا ہُوا ہے میرا گھر حُسین کا خیمہ سوارِ دوشِ پیمبر اِسی کے اندر ہیں بلند کیوں نہ ہو، اظہر ! حُسین کا خیمہ شاعر: اظہر فاروقی بریلوی نعت خواں: غلام غوث غزالی हिन्दी ENG اردو

غلاموں کو آقا مدینہ دکھا دو | Ghulamon Ko Aaqa Madina Dikha Do Lyrics in Urdu

غُلاموں کو، آقا ! مدینہ دِکھا دو تمہیں یاد کر کے بہت رو رہے ہیں بڑی حسرتیں لے کے بیٹھے ہیں دل میں کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو کوئی مجھ سے پُوچھے تیرے دل میں کیا ہے میرے دل میں، لوگو ! مدینہ بسا ہے جسے دیکھنے کی تمنّا میں روئے اُسی در کو، آقا! بُلا کر دِکھاؤ غُلاموں کے دل میں مدینہ بسا ہے ہر اِک دل میں آقا یہ صدمہ لگا ہے غموں کے سمندر میں ہم رو رہے ہیں کہ پل بھر میں، آقا ! مدینہ دِکھا دو بڑی متلبی دنیا ہنستی ہے مجھ پر کہ کب جا رہے ہو تم آقا کے در پر اِسی کشمکش میں یہ دل رو رہا ہے کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو وہ سب سے ہیں اعلیٰ، ارے دنیا والو ! وہ نبیوں کے سُلطان ہیں، دنیا والو ! میرے دل کی دھڑکن پہ ہیں وہ بسے تو میری دھڑکنوں کو مدینہ دِکھا دو مدینے سے آ کر بتاتے ہیں حاجی بڑا خوش نُما ہے مدینہ مدینہ میرا دل یہ سُن کر بہت رو رہا ہے کہ آقا مجھے بھی مدینہ دِکھا دو بہت قافلے میں نے دیکھے ہیں جاتے ہر اِک لب پہ مُسکان طیبہ سجا ہے میں طیبہ کی گلیوں میں کھو جاؤں جا کر میرے آقا ! طیبہ کا منظر دِکھا دو سبھی جانے والے یہ کیوں رو رہے ہیں خوشی کے یہ آنسو لیے رو ...

دربار مصطفیٰ کے جو دربان ہو گئے | Darbar-e-Mustafa Ke Jo Darban Ho Gaye Lyrics in Urdu

دربارِ مصطفیٰ کے جو دربان ہو گئے وہ لوگ کائنات کے سُلطان ہو گئے جنّت کھڑی ہے لینے کو آغوش میں اُنہیں جو بھی رسولِ پاک پہ قُربان ہو گئے نجدی سے کہہ دو ہم پہ نہ ڈالے بُری نظر احمد رضا ہمارے نگہبان ہو گئے خاکِ درِ حُسین کو جس نے بھی مَل لِیا اُس پر سِتارے چاند بھی قُربان ہو گئے رُوئے نبی پہ جس گھڑی اُن کی نظر پڑی آئے تھے قَتْل کرنے مُسلمان ہو گئے کوئی کسی کے پیچھے، کسی کا کوئی اِمام ہم مُقتدئ حضرتِ حسّان ہو گئے سجّاد ! یہ نگاہِ نَبُوَّت کا فیض تھا خواجہ پِیا جو ہند کے سُلطان ہو گئے شاعر: سجاد نظامی نعت خواں: سجاد نظامی हिन्दी ENG اردو

کون کہتا ہے کہ کربل میں نہیں تھا پانی | Kaun Kehta Hai Ki Karbal Mein Nahi Tha Paani Lyrics in Urdu

کون کہتا ہے کہ کربل میں نہیں تھا پانی کربلا والوں نے خود ہی نہیں چاہا پانی اپنے ہونٹوں کو ہِلا دیتے جو ابنِ حیدر آسمانوں سے اُسی وقت برستا پانی وہ خُدا نے تمہیں، شبّیر ! دِیا ہے رُتبہ تم اگر چاہتے تو خُلد سے آتا پانی عالمِ طفلی میں یہ آپ کی غیرت، اصغر ! جان تو دے دی مگر مُنہ سے نہ مانگا پانی نعت خواں: سید عبدالوصی قادری رضوی हिन्दी ENG اردو

کس کو معلوم ہے کس کو ہے یہ پتا | Kis Ko Maloom Hai Kis Ko Hai Ye Pata Lyrics in Urdu

کس کو معلوم ہے، کس کو ہے یہ پتا رب تعالیٰ کو محشر میں کیا چاہیے ہر کسی کو خدا کی رضا چاہیے اور خدا کو نبی کی رضا چاہیے کیسے ایماں بچائیں یہ رہتا ہے غم سب کو اپنی پڑی ہے، کہاں جائیں ہم ایسے حالات میں اور اِس دور میں پھر بریلی کا احمد رضا چاہیے تھے بہتّر مگر دبدبہ یاد کر ہے حُسینی تو پھر کربلا یاد کر ظُلْم کا سر یہاں کاٹنے کے لیے دل میں شبّیر کا حوصلہ چاہیے گِرتے گِرتے یقیناً سنبھل جائے گا میرا دعویٰ ہے غم سے نِکل جائے گا کامیابی قدم چُوم لے گی تیرے شرط ہے باپ ماں کی دُعا چاہیے وہ مُجاہد میرا ارشد القادری کاش ! آ جاتے اختر رضا ازہری ہر طرف سے یہ آنے لگی پھر صدا سُنّت کو وہی قافلہ چاہیے چھوڑ کر مصطفیٰ کو کہاں جائے گا دیکھنا روزِ محشر میں پچھتائے گا دامنِ مصطفیٰ آج ہی تھام لے خُلد میں گر تجھے داخلہ چاہیے رب نے قرآن میں کر دِیا فیصلہ عِشق ہوگا نبی سے تو ہوگا بھلا جتنے غُستاخ ہیں، جائیں گے نار میں خُلد کو عاشقِ مصطفیٰ چاہیے میرے سرکار کا جو ثنا خوان ہے شاعِروں میں الگ جس کی پہچان ہے جُھوم کر نعت پڑھتا ہے ہر بزم میں اس لیے مجھ کو عظمت رضا چاہیے شاعر: عظمت ر...

ہزاروں میں بہتر تن تھے تسلیم و رضا والے | Hazaron Mein Bahattar Tan The Tasleem-o-Raza Wale Lyrics in Urdu

ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے یہ نعرہ حُر کا تھا جس وقت فوجِ شام سے نکلا کہ دیکھو یُوں نکلتے ہیں جہنّم سے خدا والے کسی نے جب وطن پُوچھا تو یُوں حضرت نے فرمایا مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے حُسین ابن علی کی کیا مدد کر سکتا تھا کوئی یہ خود مُشکل کُشا تھے اور تھے مُشکل کُشا والے دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے نعت خواں: مولانا محمد شفیع اوکاڑوی ہزاروں میں بہتّر تن تھے تسلیم و رضا والے حقیقت میں خدا اِن کا تھا اور یہ تھے خدا والے گلا کٹوا کے ثابت کر گئے ہیں کربلا والے قضا سے بھی نہیں ڈرتے ہیں تسلیم و رضا والے پُکار اُٹّھیں گے دُشمن آپ کے حملوں سے گھبرا کے یہی تو ہیں علی والے، نبی والے، خدا والے کِسی نے جب وطن پُوچھا تو یہ حضرت نے فرمایا مدینے والے کہلاتے تھے اب ہیں کربلا والے دوائے دردِ عصیاں پنجتن کے در سے مِلتی ہے زمانے میں یہی مشہور ہیں دار الشفا والے یزیدی پائیں گے دوزخ، ہے دوزخ اُن کی قسمت میں جِناں پائیں گے اہلِ بیت کی مدح و ثنا وال...

گونجتا ہے نعرۂ تکبیر اللہ خیر ہو | Goonjta Hai Nara-e-Takbeer Allah Khair Ho Lyrics in Urdu

گُونجتا ہے نعرۂ تکبیر، اللہ خیر ہو ہے حُسینی ہاتھ میں شمشیر، اللہ خیر ہو یہ بھی ہو سکتا ہے پھٹ جائے زمینِ کربلا آ گئے ہیں جنگ میں شبّیر، اللہ خیر ہو آگے آگے بھائی کا چلتا ہُوا نیزے پہ سَر پیچھے پیچھے زینبِ دلگیر، اللہ خیر ہو بن کے دُولہا آئے ہیں اکبر شہادت کے لیے ہیں میرے آقا کی جو تصویر، اللہ خیر ہو جب چُبھا ہوگا علی اصغر کے نازُک حَلْق میں کہہ اُٹھا ہوگا وہ خود بھی تیر، اللہ خیر ہو مسجدِ کوفہ میں، اظہر ! وہ گرجتی ظُلم پر عابدِ بیمار کی تقریر، اللہ خیر ہو شاعر: اظہر فاروقی بریلوی نعت خواں: محمد علی فیضی حافظ انس رضا عطاری हिन्दी ENG اردو