اشاعتیں

زہرا کا دل علی کا دلارا حسین ہے | Zahra Ka Dil Ali Ka Dulara Hussain Hai Lyrics in Urdu

زہرا کا دل علی کا دُلارا حُسین ہے پیارے نبی کی آنکھوں کا تارا حُسین ہے ہر جنّتی جواں کی قیادت ہے اُس کے ہاتھ اللہ کی نظر میں یُوں پیارا حُسین ہے کاندھے پہ جو رسُول کے ہوتا رہا سَوَار قسمت کا ایک شوخ سِتارہ حُسین ہے میدانِ کربلا سے ہے گُونجی یہی صَدا اِسلام کا سُتُون و سہارا حُسین ہے سر کو کٹا کے، مومنو ! ثابت یہ کر دِیا ایمان اور یقین کا دھارا حُسین ہے اسلام کے لیے تھی شہادت حُسین کی سوغاتِ نانا جان پہ وارا حُسین ہے عقبیٰ کا تاجور ہی نہیں ہے علی کا لعل دُنیا کے ہر جواں میں بھی نیا را حُسین ہے جس نے یزِیدِیوں سے صُلحِ کُل نہ کی کبھی باطِل کے سر پہ حق کا شرارہ حُسین ہے شاعر: حافظ اللہ قاسمی نعت خواں: سندلی احمد हिन्दी ENG اردو

میرا مولا مولا حسین ہے | Mera Maula Maula Hussain Hai Lyrics in Urdu

میرا مولا مولا حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے جو ہوا نواسۂ مصطفیٰ وہ علی کا بیٹا حُسین ہے جو یزیدِیَت کو فنا کرے چلے کربلا وہ حُسین ہے بی بی فاطمہ کا وہ لاڈلا میرا بادشاہ وہ حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے کیا سُناؤں واقِعہ کربلا ہائے ! تیر نیزہ کہاں لگا جسے چُومتے رہے مصطفیٰ وہ حسینی سر تھا کٹا ہُوا سارا گھر کا گھر بھی لُٹا دِیا وہ جو کر گیا وہ حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے یہی بولے حضرتِ حُرّ شَہا یا حُسین ! آپ کا شُکرِیہ کہ یزِیدِیوں سے نِکال کر جو حُسینِیوں میں بِٹھا دِیا مجھے منزلوں کا پتا دِیا میرا رہنُما وہ حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے وہ بھی بندہ کِتنا عجیب ہے جو کہے یزِید بھی ٹِھیک ہے یا حُسینی بن یا یزِیدی بن ایسے جُھوٹ میں کیُوں شریک ہے کیُوں دو کشتِیوں کا سَوَار ہے جو ہے حق نُما وہ حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے میرا مولا مولا حُسین ہے جو درِ حُسین پہ آ گیا ساری مَنّتوں کو وہ پا گیا یہ گھرانہ آلِ نبی کا ہے جو سخاوتوں کو سِکھا گیا جو فقیر کو کرے بادشاہ ...

ہوں خاک مگر عالم انوار سے نسبت ہے | Hun Khak Magar Aalam-e-Anwaar Se Nisbat Hai Lyrics in Urdu

ہُوں خاک مگر عالمِ انوار سے نِسبَت ہے میں کچھ بھی نہیں لیکن سرکار سے نِسبَت ہے دنیا کی شہنشاہی رکھتا ہُوں میں ٹھوکر پر کونین کے اُس مالک و مختار سے نِسبَت ہے میں خاک کا پُتلا ہُوں، وہ عرش کے راہی ہیں اِس پار کا باسی ہُوں، اُس پار سے نِسبَت ہے ہیں روزِ ازل سے میری گُھٹّی میں وفا ئیں نازاں ہُوں کہ عبّاس علم دار سے نِسبَت ہے سر جُھک نہیں سکتے سرِ محشر بھی ہمارے سر اِس لیے اُونچے ہیں، سردار سے نِسبَت ہے ہم ماننے والے ہیں حُسین ابنِ علی کے وقت آئے اگر دِیں پہ تو پھر دار سے نِسبَت ہے سرکار کے دامن سے، الطاف ! ہُوں وابستہ غم پاس بھی کیوں آئیں کہ غم خوار سے نِسبَت ہے شاعر: سید الطاف شاہ کاظمی نعت خواں: عمیر منیر قادری طلحہ قادری हिन्दी ENG اردو

محمد نام ایسا ہے کہ جس لب پر یہ نام آیا | Muhammad Naam Aisa Hai Ke Jis Lab Par Ye Naam Aaya Lyrics in Urdu

نامِ محمّد صلِّ علیٰ، نامِ محمّد صلِّ علیٰ نامِ محمّد صلِّ علیٰ، نامِ محمّد صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ نَبِيِّنَا، صلِّ علیٰ مُحَمَّدٍ صلِّ علیٰ نَبِيِّنَا، صلِّ علیٰ مُحَمَّدٍ محمّد نام ایسا ہے کہ جس لب پر یہ نام آیا اِطاعت ہو گئی واجب، شفاعت کا پیام آیا محبّت کا تقاضا تھا، یہی دِل کی تمنّا تھی کہ ہر لب پر درود آیا، کہ ہر دِل میں سلام آیا جہاں والوں نے پُوچھا جب کہ کیا ہے دین کا جوہر زباں پر تھا فقط قرآن، دِل میں اُن کا نام آیا شعیر و طُور سے پُھوٹے یقیناً چشمے نُورانی مگر فاران کا بادل تو ساگر تھا مدام آیا زمیں والو ! مبارک ہو کہ یہ ارضِ مُطَہّر ہے مُریدِ باصفا بن کر ملائک کا اِمام آیا غُلامانِ محمّد کا جہاں میں مرتبہ دیکھو کہ ہر دِل میں مُقَدّس ہے، زباں پر احترام آیا مُقَدّس ہستیاں، شاکِر ! اگرچہ اور بھی تو ہیں سرِ عرشِ بریں لِکّھا، مگر اُن کا ہی نام آیا شاعر: شاکر فاروقی نعت خواں: جواد رضا قادری हिन्दी ENG اردو

کونین کے دولہا کے صدقے میں خدائی ہے | سنتے ہیں کہ محشر میں تضمین کے ساتھ | Kaunain Ke Dulha Ke Sadqe Mein Khudai Hai Lyrics in Urdu

کونین کے دولہا کے صدقے میں خُدائی ہے محبوبِ کریما نے ہاں شان وہ پائی ہے مولا نے فَتَرۡضٰی خوشخبری سُنائی ہے سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے رحمت نے سرِ محشر کیا رنگ جمائی ہے سوغاتِ کرم دیکھو لَا تَقۡنَطُوۡا لائی ہے آقا کی شفاعت نے کیا دُھوم مچائی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے اعمالِ سیہ نے جب پِھٹکار دِیا ہم کو ہم کیا کہیں اپنوں نے کیا پیار دِیا ہم کو ماں باپ نے بھی، آقا ! دُھتکار دِیا ہم کو سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے سرکار کی عظمت کا جب ذکرِ جلی چھیڑو بازارِ محبّت میں پھر ہوش و خِرَد بھیجو گلدستۂ تَن مَن دَھن ہر چیز ہی، اے لوگو! یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے یوں بزمِ محبّت سے ہرگز نہ تُو خالی اُٹھ محبوب کی چوکھٹ سے لے کر کے، سوالی ! اُٹھ سرکارِ مدینہ کے اے قلبِ فدائی ! اُٹھ اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَما...

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے | Sunte Hain Ke Mehshar Mein Sirf Un Ki Rasai Hai Lyrics in Urdu

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے زائر گئے بھی کب کے، دِن ڈَھلنے پہ ہے، پیارے ! اُٹھ میرے اَکیلے چل، کیا دیر لگائی ہے بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا سرکار کرم تجھ میں عیبی کی سَمائی ہے گِرتے ہووں کو مژدہ سجدے میں گِرے مولیٰ رو رو کے شفاعت کی تمہید اُٹھائی ہے اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَمائی ہے مجرم کو نہ شرماؤ، احباب ! کفن ڈَھک دو مُنھ دیکھ کے کیا ہوگا، پردے میں بھلائی ہے اب آپ ہی سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے اے عشق ! تِرے صَدقے جلنے سے چُھٹے سَستے جو آگ بُجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے حرص و ہوسِ بد سے، دِل ! تُو بھی سِتَم کر لے تُو ہی نہیں بے گانہ، دُنیا ہی پَرائی ہے ہم دِل جلے ہیں ...

جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی | صلّو علیہ وآلہٖ | Jo Na Hota Tera Jamal Hi Lyrics in Urdu

جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی تو جہاں تھا خواب و خیال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ مہ و مہر میں تیری روشنی ہُوئی ختم تجھ پہ پیمبری نہیں تجھ سا تیرے سِوا کوئی کرے کون تیری برابری یہ نہیں کسی کی مجال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ نہ فصیل ہے، نہ محل سرا تیرا فرش ہے وہی بوریا تیرے جسمِ پاک پہ اِک قبا وہ بھی تار تار ہے جا بجا تیری سادگی ہے کمال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ تُو خلیل ہے، تُو کلیم ہے تُو رَؤُف ہے، تُو رحیم ہے تُو حبیبِ ربِّ کریم ہے تیری شان سب سے عظیم ہے نہیں کوئی تیری مثال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ تُو کلیم ہے، تُو کریم ہے تُُو رَؤُف ہے، تو رحیم ہے تو حبیبِ ربِّ کریم ہے تیری شان سب سے عظیم ہے نہیں کوئی تیری مثال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ شاعر: تنویر نقوی نعت خواں: زبیدہ خانم یشفین اجمل شیخ سیدہ اریبہ فاطمہ हिन्दी ENG اردو

تیرے عشق میں میں کیا ہوں دنیا کو پتا کیا ہے | Tere Ishq Mein Main Kya Hun Duniya Ko Pata Kya Hai Lyrics in Urdu

تیرے عشق میں میں کیا ہُوں، دُنیا کو پتا کیا ہے پاگل ہُوں دیوانہ ہُوں، جانُوں کیا خطا کیا ہے ہوش اپنا، یہ دِل تم پر پہلے ہی گواۓ تھا اِک عقل ہی آخر تھی، اب پاس بچا کیا ہے لگتے ہیں یہ بے رونق جنّت کے نظارے سب اللہ اللہ مدینے کی پاکیزہ فضا کیا ہے ہو دفن میری میّت بھی گھور اندھیرے میں سرکار کی بیٹی سے پُوچھو کہ حیا کیا ہے نعت خواں: گلفام رضا حسّانی हिन्दी ENG اردو

وہ میرا غنی میرا غنی میرا غنی ہے | Wo Mera Ghani Mera Ghani Mera Ghani Hai Lyrics in Urdu

باوفا باحیا، اعلیٰ و عالی صفا میرا عثمان وہ جس کے وسیلے سے ہر اک بات بنی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے میرا مُرشِد، میرا مولا، میرا سُلطان ہے عثمان میرا داتا، میرا آقا، میری پہچان ہے عثمان سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے جو جامعِ قرآن ہے، ہے عاملِ سُنّت تا عُمْر دِیا جس نے ہمیں درسِ شریعت وہ جس سے کلی دین کے گُلشن کی کِھلی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے جو فخرِ ابوبکر ہے، دامادِ نبی ہے لو جس سے عُمَر اور علی کی بھی لگی ہے اُس سا نہ زمانے میں کوئی آیا سخی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے عثمان کا دُشمن تو نبی کا بھی ہے دُشمن دُشمن ہے خدا کا، وہ علی کا بھی ہے دُشمن دوزخ کا وہ حقدار ہے، حق بات یہی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے ہو کیسے بیاں حضرتِ عثمان کی عظمت قرآن کو پڑھتے ہوئے پائی ہے شہادت وہ جس کی جبیں آگے نہ دُشمن کے جُھکی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے ہم اہلِ سُنن ہیں، یہ عقیدہ ہے ہمارا جو اِس کو نہیں مانتا، اُس سے ہے کنارہ ہر ایک صحابیِ نبی رب کا ولی ہے وہ...

اللہ سے کیا پیار ہے عثمان غنی کا | Allah Se Kya Pyar Hai Usman-e-Ghani Ka Lyrics in Urdu

اللہ سے کیا پیار ہے عثمانِ غنی کا محبوبِ خدا یار ہے عُثمان غنی کا رنگین وہ رُخسار ہے عثمانِ غنی کا بُلبُل گُلِ گُلزار ہے عثمانِ غنی کا گرمی پہ یہ بازار ہے عثمانِ غنی کا اللہ خریدار ہے عثمانِ غنی کا کیا لعل شکر بار ہے عثمانِ غنی کا قند ایک نمک خوار ہے عثمانِ غنی کا سرکار عطا پاش ہے عثمانِ غنی کا دَربار دُرَر بار ہے عثمانِ غنی کا دِل سوخت و ہمّت جگر اَب ہوتے ہیں ٹھنڈے وہ سایۂ دیوار ہے عثمانِ غنی کا جو دِل کو ضیا دے، جو مُقَدّر کو جِلا دے وہ جلوۂ دیدار ہے عثمانِ غنی کا جس آئینہ میں نورِ الٰہی نظر آئے وہ آئینہ رُخسار ہے عثمانِ غنی کا سرکار سے پائیں گے مُرادوں پہ مُرادیں دَربار یہ دُر بار ہے عثمانِ غنی کا آزاد گرفتارِ بلاۓ دو جہاں ہے آزاد گرفتار ہے عثمانِ غنی کا بیمار ہے جس کو نہیں آزارِ محبّت اچّھا ہے جو بیمار ہے عثمانِ غنی کا اللہ غنی حد نہیں انعام و عطا کی وہ فیض پہ دَربار ہے عثمانِ غنی کا رُک جائیں مِرے کام، حَسن ! ہو نہیں سکتا فیضان مددگار ہے عثمانِ غنی کا شاعر: مولانا حسن رضا خان بریلوی نعت خواں: اویس رضا قادری صابر رضا ازہری سورت हिन्दी EN...

نظریں جھکا لو پلکیں بچھا لو | نام محمد لیا جا رہا ہے | Naam-e-Muhammad Liya Ja Raha Hai Lyrics in Urdu

نظریں جُھکا لو، پلکیں بِچھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے ہونٹوں پہ مُسکان اپنے سجا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے نظریں جُھکا لو، پلکیں بِچھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے مہمان ہے وہ پیارے نبی کا آقا کی محفل میں آتا ہے جو بھی پلکوں پہ اپنی اُس کو بِٹھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے نظریں جُھکا لو، پلکیں بِچھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے پڑھتے رہو تم درودوں کی تسبیح اور یُوں کرو تم محبّت کی تشریح تسبیح کو آنکھوں سے اپنی لگا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے نظریں جُھکا لو، پلکیں بِچھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے آدم سے پہلے اور بعدِ آدم ہے ہر زمانہ نبی کا زمانہ تم بھی زمانے کے سنگ گُنگُنا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے نظریں جُھکا لو، پلکیں بِچھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے رکھنا یقیں تم، آئیں گے آقا آنگن میں اپنے جو محفل سجے گی راہوں پہ اُن کی نظریں جما لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے نظریں جُھکا لو، پلکیں بِچھا لو نامِ محمّد لِیا جا رہا ہے شاعر: بابو فراز نعت خواں: نول خان हिन्दी ENG اردو

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے | Arsh Ki Aql Dang Hai Charkh Mein Aasman Hai Lyrics in Urdu

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے بزمِ ثنائے زُلف میں میری عروسِ فکر کو ساری بہارِ ہشت خُلد چھوٹا سا عِطر دان ہے عرش پہ جا کے مُرغِ عقل تھک کے گِرا غش آ گیا اور ابھی منزلوں پَرے پہلا ہی آستان ہے عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ، فرش میں طُرفہ دُھوم دَھام کان جِدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے اِک تِرے رُخ کی روشنی چین ہے دو جہان کی اِنس کا اُنس اُسی سے ہے، جان کی وہ ہی جان ہے وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو جان ہیں وہ جہان کی، جان ہے تو جہان ہے گود میں عالمِ شباب، حالِ شباب کچھ نہ پُوچھ ! گُل بُنِ باغِ نُور کی اور ہی کچھ اُٹھان ہے تجھ سا سِیاہ کار کون، اُن سا شفیع ہے کہاں پھر وہ تجھی کو بُھول جائیں، دِل ! یہ تِرا گُمان ہے پیشِ نظر وہ نو بہار، سجدے کو دِل ہے بے قرار روکیے سر کو روکیے، ہاں یہی امتحان ہے شانِ خُدا نہ ساتھ دے، اُن کے خِرام کا وہ باز سدرہ سے تا زمیں جسے نرم سی اِک اُڑان ہے بارِ جلال اُٹھا لیا، گرچہ کلیجا شک ہُوا یُوں تو یہ ماہِ سبزہ رنگ نظروں میں دھان پان ہے خوف نہ رکھ، رضا ! ذرا تُو تو ہے عَبدِ مصطفیٰ ت...

اگر طیبہ کی زینت گنبد خضرا نہیں ہوتا | Agar Taiba Ki Zeenat Gumbad-e-Khazra Nahin Hota Lyrics in Urdu

اگر طیبہ کی زینت گُنبدِ خضرا نہیں ہوتا تو اُس شہرِ حسین کا نام بھی طیبہ نہیں ہوتا اگر وردِ درودِ پاک مکّھیاں نہیں کرتیں زمین پر مکّھیوں کا شہد بھی میٹھا نہیں ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں دامن جنابِ غوثِ اعظم کا نکیروں کے سوالوں کا اُسے خطرہ نہیں ہوتا کبھی کا دشمنوں نے کر دِیا ہوتا ہمیں بے گھر اگر بھارت کی دھرتی پر میرا خواجہ نہیں ہوتا صدا آتی ہے یہ اب بھی مزارِ اعلیٰ حضرت سے بریلی میں کبھی ایمان کا سَودا نہیں ہوتا جو سایہ اُن کا ڈھونڈے اُس سے یہ، شُعیب ! کہہ دینا ارے اندھے ! خدا کے نُور کا سایہ نہیں ہوتا شاعر: شعیب رضا قادری جھانسی نعت خواں: شعیب رضا قادری جھانسی हिन्दी ENG اردو

شہ دیں کے نعلین اٹھانے کے قابل | Shah-e-Deen Ke Nalain Uthane Ke Qabil Lyrics in Urdu

شہِ دیں کے نعلین اُٹھانے کے قابل کہاں میرا سر اُس خزانے کے قابل وہ خاکِ دیارِ حبیبِ خدا ہے کہاں میری آنکھیں لگانے کے قابل ابھی وہ بُلا لیں مجھے ایک پل میں مگر میں کہاں ہُوں بُلانے کے قابل خدا کی قسم وہ بُلائیں گے مجھ کو میں ہو جاؤں گا جب بُلانے کے قابل میرا ذِکر چھوڑو، تَصَوُّر بھی میرا نہیں ہے مدینے میں جانے کے قابل اگر اپنے اعمال کو یاد کر لُوں نہیں ایک پل مُسکُرانے کے قابل ہُوں شہرِ مدینہ کے کُتّوں کا کُتّا میں یہ بھی نہیں ہُوں بتانے کے قابل نکیرین بس کھول دیں میری آنکھیں نہیں اُن کو چہرہ دِکھانے کے قابل ہے جاوید پھر بھی مُقَدّر پہ نازاں کِیا رب نے نعتیں سُنانے کے قابل نعت خواں: محمد علی فیضی हिन्दी ENG اردو

کچھ دیر تو بیٹھو اہل دل ہم نور ہدیٰ کی بات کریں | Kuchh Der To Baitho Ahl-e-Dil Lyrics in Urdu

کچھ دیر تو بیٹھو، اہلِ دل ! ہم نُورِ ہُدیٰ کی بات کریں سرکارِ دو عالم صلّی علیٰ محبوبِ خدا کی بات کریں وہ جِن سے مُنَوّر دونوں جہاں وہ جن سے مِٹی ظُلمتِ شب کی تحفے میں جنہیں قرآن مِلا اُن جانِ فدا کی بات کریں وَالشَّمس ہے چہرۂ انور اور واللَّیل ہیں گیسو حضرت کے کونین کی محفل جِن سے سجی وہ سب سے جُدا کی بات کریں القاب مِلے طٰہٰ یٰسین مُزَمّل و مکّی مدنی بھی اور اسوۂ حسنہ جس کو کہا اُس رب کی صدا کی بات کریں غم خوار ہیں آقا اُمّت کے سردارِ عُلیٰ ہیں جنّت کے وہ رحمتِ عالم نُورِ مُبیں شفقت کی رِداء کی بات کریں ہو عظمت و رفعت کیسے بیاں معراج تلک ہیں جا پہنچے ہم سـاقئ آبِ کوثر کے اخلاق و ادا کی بات کریں ہم جیسے گنہگاروں کے لیے وہ رب سے سِفارش کر دیں گے بہبود کی جو گونجی ہے، فِضا ! اُس حق کی نِدا کی بات کریں شاعرہ: فضا فانیہ نعت خواں: مفتی انس یونس हिन्दी ENG اردو

ولولۂ عشق و الفت آیا قربانی کا دن | Walwala-e-Ishq-o-Ulfat Aaya Qurbani Ka Din Lyrics in Urdu

قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے ولولۂ عشق و اُلفت، آیا قُربانی کا دِن یہ ہے اِبراہیمی سُنّت، آیا قُربانی کا دِن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن جانور اور مال کا صدقہ ہیں یہ قُربانیاں ہوگی گھر بھر کی حفاظت، آیا قُربانی کا دِن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن ہے حدیثِ مصطفیٰ اور حِصّۂ قرآن ہے یہ ہے قُربانی عبادت، آیا قُربانی کا دِن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن اے اُجاگر ! خوش دِلی سے جانور قُربان کر مِلتی ہے اللہ کی قُربت، آیا قُربانی کا دن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن شاعر: علامہ نثار علی اجاگر نعت خواں: حافظ غلام مصطفیٰ قادری हिन्दी ENG اردو

اس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں | آہ محروم حج سے ہوئے ہیں | Is Baras Hajj Na Hum Kar Sake Hain Lyrics in Urdu

اِس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اپنی قسمت پہ ہم رو رہے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں یاد عرفات کی آ رہی ہے وہ کھڑے ہو کے تجھ کو منانا سب خیالوں میں نقش آ رہے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اِس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اُن سے پوچھو جو حج پر چلے تھے جمع زادِ سفر کر رہے تھے نَذْر حالات وہ ہو گئے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اِس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں سال بھر حج کے وہ مُنتظِر تھے کتنی مشکل سے دن کٹ رہے تھے جیتے جی اب تو وہ مر گئے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اِس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں آقا ! کس سے کہوں اپنی بِپتا کون زخموں پہ مرہم رکھے گا تیرے در پہ بھی نہ آ سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اِس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں بَخْت ایسا اُجاگر عطا ہو ہر برس حج کا موسم لِکھا ہو حالِ دل کہہ کے ہم رو رہے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں اِس برس حج نہ ہم کر سکے ہیں آہ ! محروم حج سے ہوئے ہیں...

تو سب کو حج پہ بلا رہا ہے | مجھے بھی حج پہ بلا لے مولا | Mujhe Bhi Hajj Pe Bula Le Maula Lyrics in Urdu

تو سب کو حج پہ بُلا رہا ہے مجھے بھی حج پہ بُلا لے، مولا ! تجھے محمّد کا واسطہ ہے مجھے بھی حج پہ بُلا لے، مولا ! زباں پہ لبّیک کی صدا ہو کرُوں حرم کا طواف میں بھی یہی تمنّا ہے میرے دل کی یہ اِذْن مجھ کو بھی دے، خدایا ! ہو سامنے تیرا پیارا کعبہ پِیُوں میں زمزم کا جام، مولا ! شرف عطا کر مجھے بھی، مولا ! ہے واسطہ تجھ کو مصطفیٰ کا غلافِ کعبہ سے میں لپٹ کر دُعائیں مانگُوں میں خوب روؤں مُعافی مانگوں میں تجھ سے، مولا ! تو بخش دینا مجھے، خدایا ! مِنا و مزدلفہ اور عرفات - کے بھی جلووں کو دیکُھوں، مولا ! کرم یہ فرما دے تجھ کو، مولا ! ہے واسطہ بنتِ مصطفیٰ کا میں چُومُوں پیارا وہ سنگِ اسود مجھے بھی حاصل ہو یہ سعادت اے خالقِ کُل اے مالکِ کُل ! یہ پُوری کر دے میری تمنّا حرم سے ہو کر مدینے جاؤں جہاں پہ سردارِ دو جہاں ہیں پکڑ کے اُن کی سُنہری جالی طلب کرُوں صدقہ پنجتن کا ہے آرزو اُن کے در پہ جاؤں میں حال دل کا اُنہیں بتاؤں جب اُن کی چوکھٹ پہ سر کو رکُّھوں ہو خاتمہ میری زندگی کا شرف دے شوقِ فریدی کو بھی درِ شہِ دیں پہ حاضری کا ہے واسطہ تجھ کو، میرے مولا ! نبیِ اکرم ک...

اللہ کی رضا ہے گر آپ کو جو پانی | کر لیجیے قربانی | Allah Ki Riza Hai Gar Aap Ko Jo Paani Lyrics in Urdu

عیدِ قربان مبارک ! عیدِ قربان مبارک ! مبارک مبارک مبارک ! قربانی مبارک ! قربانی قربانی قربانی قربانی اللہ کی رِضا ہے گر آپ کو جو پانی کر لیجیے قربانی، کر لیجیے قربانی سُنّت ادا کریں گے، راضی خُدا کریں گے حکمِ خدا پہ جانیں اپنی فِدا کریں گے اِخلاص دل میں ہو اور ہو جذبۂ ایمانی کر لیجیے قربانی، کر لیجیے قربانی عیدِ قربان مبارک ! عیدِ قربان مبارک ! مبارک مبارک مبارک ! قربانی مبارک ! حُکمِ خُدا مِلا جب رب کے خلیل کو قربان کر دو اپنے تم اسماعیل کو حُکمِ خُدا کے آگے خم کر دی ہے پیشانی کر لیجیے قربانی، کر لیجیے قربانی عیدِ قربان مبارک ! عیدِ قربان مبارک ! مبارک مبارک مبارک ! قربانی مبارک ! بیٹا ہے ایسا بیٹا رب کے خلیل کا مقبول ہے وہ بندہ ربِ جلیل کا قربان مجھ کو کر دے، اے میرے بابا جانی ! کر لیجیے قربانی، کر لیجیے قربانی عیدِ قربان مبارک ! عیدِ قربان مبارک ! مبارک مبارک مبارک ! قربانی مبارک ! رب کے حبیب کا بھی فرمان ہے یہی فرحان ! ہمارا بھی ایمان ہے یہی ناموسِ نبی پر ہو قربان زندگانی کر لیجیے قربانی، کر لیجیے قربانی عیدِ قربان مبارک ! عیدِ قربان مبارک ! مبارک...

کعبہ دکھا دے مولا | Kaba Dikha De Maula Lyrics in Urdu

کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! عُمْر بچی ہے میری کہاں مر ہی نہ جاؤں، مولا ! یہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! کبھی گِرد کعبے کے میں بھی تو گُھومُوں کبھی میں بھی کعبے کی چادر کو چُومُوں مجھے بھی دِکھا دے، خدایا ! حرم وہ برستی ہے رحمت کی بارِش جہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! کبھی سنگِ اسود کا بوسہ عطا ہو کہ مرنے سے پہلے ختم ہر خطا ہو تمنّا مِرے رب یہ پُوری تُو کر دے اِسی جُستجُو میں ہُوں جیتا یہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! میں اکثر ہی یادوں میں کعبے کو پہنچا میں کتنا ہُوں تڑپا، میں کتنا ہُوں رویا ہے بے چین، مولا ! یہ دل میرا کتنا کروں کیسے میں یہ لبوں سے بیاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! بہت ہو کے آئے ہیں دیکھو وہاں سے کہ میں صرف جا ہی نہ پایا یہاں سے زِیارت حرم کی ہے کِتنوں نے کر لی تِری اب نگاہِ کرم ہو یہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! بہت لوگ جاتے ہیں ایسے حرم کو کہ جیسے حرم ہو قدم دو قدم کو بڑا خوب اُن کا مُقَدَّر ہے، ...

مبارک ہو تم سب کو حج کا مہینہ | مدینے والے سے میرا سلام کہنا | Madine Wale Se Mera Salam Kehna Lyrics in Urdu

مبارک ہو تم کو یہ سفرِ مدینہ نہ تھی میری قسمت کہ دیکھوں مدینہ مدینے والے سے میرا سلام کہنا مدینے والے سے میرا سلام کہنا اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ ساحل سے آتے آتے موجوں کو چُوم لینا موجوں کے بعد دلکش ذرّوں کو چُوم لینا اُس پاک سر زمیں کی راہوں کو چُوم لینا پھولوں کو چُوم لینا، کانٹوں کو چُوم لینا سُلطانِ انبیا سے میرا سلام کہنا مدینے والے سے میرا سلام کہنا مدینے والے سے میرا سلام کہنا اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ مدینے قافلے جاتے ہیں میں بھی آؤں گا حضور کتنے ہی آتے ہیں میں بھی آؤں گا چلے سب یار فی اَمانِ اللہ سوئے سرکار فی اَمانِ اللہ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ اَللّٰهُمَّ غُلام آپ کے کتنے غریب ہو کر بھی غُلام آتے ہیں جاتے ہیں، میں بھی آؤں گا لیا مدینے دا سب نے رستہ میں ایتھے ای رہ گیا ترسدا تُوں جا کے آقا نُوں دست بستہ کویں درود و سلام میرا، سلام میرا صبا درِ مصطفیٰ تے جا کے کویں درود و سلام میرا، سلام میرا مداوا رنج و مصیبت کا ہے مدینے میں مجھے ب...

عرضی ہے یہی آپ سے سلطان مدینہ | Arzi Hai Yahi Aap Se Sultan-e-Madina Lyrics in Urdu

عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! ہر سال بنائیں مجھے مہمانِ مدینہ عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! محشر میں عمل پوچھے گا مولیٰ تو کہوں گا سرکار کا نوکر ہُوں، ثنا خوانِ مدینہ عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! تا عُمْر کروں آپ کی میں مدح سرائی دے دیجیے شرف مجھ کو یہ، سُلطانِ مدینہ ! عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! اِک میں ہی نہیں کرتا فقط دعوۂ اُلفت ہیں رب کے فرشتے بھی فِدایانِ مدینہ عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! آتے ہیں یہاں شام و سحر حُور و ملائک ہوگی نہ بیاں مجھ سے کبھی شانِ مدینہ عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! حسرت ہے یہی شوقِ فریدی کی، اے آقا ! محشر میں بھی کہلاؤں میں مستانِ مدینہ عرضی ہے یہی آپ سے، سُلطانِ مدینہ ! شاعر: شوق فریدی نعت خواں سید عبدالقادر القادری हिन्दी ENG اردو

وہ دن آئے گا اک بار میں مدینے جاؤں گا | Wo Din Aayega Ek Baar Main Madine Jaunga Lyrics in Urdu

وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا کرنے روضے کا دیدار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا شاہِ مدینہ، رحمتِ عالم، نبیوں کے سردار دیکھیں، کب دِکھلائیں اپنا نُورانی دربار میں تو ہُوں کب سے تیّار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا مجھ کو یقیں ہے، کرم کریں گے آمنہ بی کے لال اُن کو تو معلوم ہے، واللہ ! میرے دل کا حال کہتے ہیں یہ دِل کے تار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا دیکھا نہیں اُن کا در اب تک، کیا ہو گا انجام ! میرے دِل کی دھڑکن مجھ کو دیتی ہے پیغام مرنے سے پہلے اِک بار میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا دیکھ کے مجھ عاصی کو اُن کو آ جائے گا پیار نُورانی چادر میں چُھپا لیں گے اُس دم سرکار لے کر جب اشکوں کے ہار میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا کیا غم ہے کہ جکڑے ہوئے ہے دُوری کی زنجیر مِل جائے گی مجھ کو میرے خوابوں کی تعبیر جس دن چاہیں گے سرکار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا ہے آمنہ میں مِیم، حلیمہ میں مِیم ہے م...

میں عاصی ہوں مگر تو ہے بڑا غفار یا اللہ | Main Aasi Hun Magar Tu Hai Bada Gaffar Ya Allah Lyrics in Urdu

یا اللہ ! یا رحمان ! یا رحیم ! یا کریم ! يا حيُّ يا قيُّوْم ! یا اللہ ! یا رحمان ! یا رحیم ! یا کریم ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! کرم سے اپنے کر دے میرا بیڑا پار، یا اللہ ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! سما جائے میرے دل میں محبّت کے تیرے جلوے جِدھر دیکھوں نظر آئیں تیرے انوار، یا اللہ ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! رہُوں تیری رِضا پر میں ہمیشہ صابِر و شاکِر نہ دے دنیا کا کوئی غم مجھے آزار، یا اللہ ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! فقط اِک تیری رحمت ہے، مجھے جس کا سہارا ہے میں بے کس ہُوں، نہیں کوئی میرا غم خوار، یا اللہ ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! تمنّا ہے کہ اپنی زندگی میں دیکھ لُوں پھر بھی تیرے پیارے تیرے محبوب کا دربار، یا اللہ ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! تیرے دریائے رحمت میں ہو طُغیانی پئے بخشش ہو قاسِم حشر میں جب حاضرِ دربار، یا اللہ ! میں عاصی ہُوں مگر تُو ہے بڑا غفّار، یا اللہ ! شاعر: قاسم شاہ بریلوی نعت خواں: زہیب اشرفی हिन्दी ENG اردو ...