موہے سپنا ما درشن دکھائے گیو رے مورے غوث الوریٰ | Mohe Sapna Ma Darshan Dikhaye Gayo Re More Lyrics in Urdu
موہے سپنا ما درشن دِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ مورا سوتے میں بھاگ جگائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ چشمہ بغداد کا جب لگا آنکھ پر دیکھا طیبہ نگر جانبِ مکّہ جب بھی اُٹھی ہے نظر دیکھا طیبہ نگر مورے من ما مدینہ بسائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ غم کا طوفان تھا، میں پریشان تھا مجھ کو بخشا سُکُوں ٹوٹی پتوار تھی اور میں حیران تھا مجھ کو بخشا سُکُوں موری ڈوبتی نیّا تِرائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ غم کی ظُلمت ہٹی، رات کالی کٹی اور اُجالا ہوا راستے سے مصیبت کی ظُلمت چھٹی اور اُجالا ہوا موری آشا کا دیپ جلائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ لب پہ یا غوث یا غوث یا غوث ہے ہر نَفَسْ ہر قدم یہ عقیدت کی آواز بے لوث ہے ہر نَفَسْ ہر قدم اہلِ سُنّت کا نعرہ سِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ چاندنی مجھ کو، اعجاز ! پھیکی لگے ایسے اچّھے ہیں وہ اور کِرن مجھ کو سُورج کی دُھندلی لگے ایسے اچّھے ہیں وہ کیسا نُوری مُکھڑوا دِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ شاعر: علامہ سعید اعجاز کامٹوی نعت خواں: سید امین القادری معین الدین بلبلِ مستجاب محبوبِ مستجاب हिन्दी ENG اردو