اشاعتیں

موہے سپنا ما درشن دکھائے گیو رے مورے غوث الوریٰ | Mohe Sapna Ma Darshan Dikhaye Gayo Re More Lyrics in Urdu

موہے سپنا ما درشن دِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ مورا سوتے میں بھاگ جگائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ چشمہ بغداد کا جب لگا آنکھ پر دیکھا طیبہ نگر جانبِ مکّہ جب بھی اُٹھی ہے نظر دیکھا طیبہ نگر مورے من ما مدینہ بسائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ غم کا طوفان تھا، میں پریشان تھا مجھ کو بخشا سُکُوں ٹوٹی پتوار تھی اور میں حیران تھا مجھ کو بخشا سُکُوں موری ڈوبتی نیّا تِرائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ غم کی ظُلمت ہٹی، رات کالی کٹی اور اُجالا ہوا راستے سے مصیبت کی ظُلمت چھٹی اور اُجالا ہوا موری آشا کا دیپ جلائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ لب پہ یا غوث یا غوث یا غوث ہے ہر نَفَسْ ہر قدم یہ عقیدت کی آواز بے لوث ہے ہر نَفَسْ ہر قدم اہلِ سُنّت کا نعرہ سِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ چاندنی مجھ کو، اعجاز ! پھیکی لگے ایسے اچّھے ہیں وہ اور کِرن مجھ کو سُورج کی دُھندلی لگے ایسے اچّھے ہیں وہ کیسا نُوری مُکھڑوا دِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ شاعر: علامہ سعید اعجاز کامٹوی نعت خواں: سید امین القادری معین الدین بلبلِ مستجاب محبوبِ مستجاب हिन्दी ENG اردو

ہم مدینے سے اللہ کیوں آ گئے | Hum Madine Se Allah Kyun Aa Gaye Lyrics in Urdu

ہم مدینے سے اللہ کیوں آ گئے قلبِ حیراں کی تسکین وہیں رہ گئی دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام و سحر وہ سُکونِ دل و جان و روح و نظر یہ اُنہی کا کرم ہے، انہی کی عطا ایک کیفیتِ دل نشیں رہ گئی اللہ اللہ ! وہاں کا سُجُود و قیام اللہ اللہ ! وہاں کا دُرُود و سلام اللہ اللہ ! وہاں کا وہ کیفِ دوام وہ صلوٰۃِ سُکُوں آفریں رہ گئی جس جگہ سجدہ ریزی کی لذّ ت مِلی جس جگہ ہر قدم اُن کی رحمت مِلی جس جگہ نُور رہتا ہے شام و سحر وہ فلک رہ گیا، وہ زمیں رہ گئی پڑھ کے نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ فَتْحٌ قَرِیْب جب ہوئے ہم رواں سوئے کوئے حبیب برکتیں، رحمتیں ساتھ چلنے لگیں بے بسی زندگی کی یہیں رہ گئی زندگانی وہیں، کاش ! ہوتی بسر کاش، بہزاد ! آتے نہ ہم لوٹ کر اور پُوری ہوئی ہر تمنّا مگر یہ تمنّائے قلبِ حزیں رہ گئی شاعر: بہزاد لکھنوی نعت خواں: ذوالفقار علی حسینی زہیب اشرفی فرحان علی قادری हिन्दी ENG اردو

سراپا خطا ہوں نگاہ کرم ہو | میں سب سے برا ہوں نگاہ کرم ہو | Main Sab Se Bura Hoon Nigah-e-Karam Ho Lyrics in Urdu

سراپا خطا ہوں، نگاہِ کرم ہو میں سب سے بُرا ہوں، نگاہِ کرم ہو مجھے مانگنے کا سلیقہ نہیں ہے مگر مانگتا ہوں، نگاہِ کرم ہو میں کیوں در بدر ٹھوکریں کھاؤں جا کر میں بے آسرا ہوں، نگاہِ کرم ہو کہاں در بدر ٹھوکریں کھاؤں جا کر تُمھارا گدا ہوں، نگاہِ کرم ہو حضور ! آپ سے آپ کو مانگتا ہوں فقیر آپ کا ہوں، نگاہِ کرم ہو کسی اور سے مجھ کو نسبت نہیں ہے میں صرف آپ کا ہوں، نگاہِ کرم ہو منیر آپ سے اور گُزارش کروں کیا یہی چاہتا ہوں، نگاہِ کرم ہو میری داستاں مختصر ہو رہی ہے میں بُجھتا دِیا ہوں، نگاہِ کرم ہو نگاہِ کرم، اے پناہِ دو عالم ! اماں چاہتا ہوں، نگاہِ کرم ہو یقیناً تیری رحمتوں نے سنبھالا میں جب بھی گِرا ہوں، نگاہِ کرم ہو تُمھاری ہی نسبت ہے سرمایہ میرا میں صرف آپ کا ہوں، نگاہِ کرم ہو مجھے اپنے قدموں میں بلوا لو، آقا! کرم، شاہِ والا! نگاہِ کرم ہو عطا کیجیے حاضری کا قرینہ مدینے چلا ہوں، نگاہِ کرم ہو مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر دو میں سویا پڑا ہوں، نگاہِ کرم ہو نعت خواں: مرغوب احمد ہمدانی حاجی مشتاق عطاری حوریہ فہیم قادری हिन्दी ENG اردو

عرش حق ہے مسند رفعت رسول اللہ کی | Arsh-e-Haq Hai Masnad-e-Rifat Rasoolullah Ki Lyrics in Urdu

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی دیکھنی ہے حشر میں عِزّت رسول اللہ کی قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نُور کے جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی کافِروں پر تیغِ والا سے گِری برقِ غضب اَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی لَا وَرَبِّ الْعَرْش جِس کو جو مِلا اُن سے مِلا بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مُستغنی ہوا ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی سُورج اُلٹے پاؤں پلٹے، چاند اِشارے سے ہو چاک اندھے نجدی! دیکھ لے قُدرت رسول اللہ کی تجھ سے اور جنّت سے کیا مطلب، وہابی! دُور ہو ہم رسول اللہ کے، جنّت رسول اللہ کی ذِکر روکے، فضل کاٹے، نقص کا جویاں رہے پھر کہے مردک کہ ہُوں اُمّت رسول اللہ کی نجدی! اُس نے تُجھ کو مُہلت دی کہ اِس عالم میں ہے کافِر و مُرتد پہ بھی رحمت رسول اللہ کی ہم بِھکاری، وہ کریم، اُن کا خدا اُن سے فُزوں اور نا کہنا نہیں عادت رسول اللہ کی اہلِ سُنّت کا ہے بیڑا پار، اَصحابِ حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی خاک ہو کر عِشق میں آرام سے سونا مِلا جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسول اللہ کی ٹُوٹ جائیں گے گنہگاروں کے فوراً قید و ب...

ہر شان تری شان پہ قربان ہے مولیٰ | Har Shaan Teri Shaan Pe Qurban Hai Maula Lyrics in Urdu

ہر شان تِری شان پہ قربان ہے، مولیٰ ! کیا خُوب بُزرگی کی تِری شان ہے، مولیٰ ! تابندہ ہے قِندیلِ فلک سے یہ زمانہ اور اُس میں تِرے نور کا فیضان ہے، مولیٰ ! ہر سمت تِرے حُسن کے جلوے کی دھمک ہے کیا دشت و چمن، کوہ و بیابان ہے، مولیٰ ! خیرات مِلے مجھ کو تِری شان کے لائق میں سائلِ خستہ ہوں، تُو سُلطان ہے، مولیٰ ! ہم چاہ کے بھی فضل تِرا گِن نہیں سکتے بے لَوث تِرا خَلق پہ احسان ہے، مولیٰ ! واللہ مِری چاہ نہیں شُہرتِ طَلبی بس تیری رضا زیست کا عُنوان ہے، مولیٰ ! اب بادِ مدینہ سے گُلِ دل کو کِھلا دے مُرجھایا مِرے قلب کا گُلدان ہے، مولیٰ ! بس اپنے کرم سے تُو مجھے بخش دے، یا رب ! میں بندۂ عاصی ہوں، تُو رحمان ہے، مولیٰ ! سرکار کے جلووں سے اب ایّوب کے دِل کو آباد تُو فرما کہ یہ ویران ہے، مولیٰ ! شاعر: محمد ایوب رضا امجدی نعت خواں: صابر رضا ازہری سورت हिन्दी ENG اردو

دل کو ان سے خدا جدا نہ کرے | Dil Ko Un Se Khuda Juda Na Kare Lyrics in Urdu

دِل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے بیکسی لوٹ لے خدا نہ کرے اس میں رَوضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں کون ان جرموں پر سزا نہ کرے سب طبیبوں نے دے دِیا ہے جواب آہ عیسیٰ اگر دوا نہ کرے دِل کہاں لے چلا حرم سے مجھے ارے تیرا بُرا خدا نہ کرے عذر اُمّیدِ عفو گر نہ سنیں رُو سیاہ اور کیا بہانہ کرے دِل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور کاش! جوشِ ہوس ہوا نہ کرے حشر میں ہم بھی سیر دیکھیں گے منکِر آج ان سے اِلتجا نہ کرے ضُعف مانا مگر یہ ظالم دِل اُن کے رستے میں تو تھکا نہ کرے جب تِری خُو ہے سب کا جی رکھنا وہی اچّھا جو دِل بُرا نہ کرے دِل سے اِک ذوقِ مے کا طالب ہوں کون کہتا ہے اِتّقا نہ کرے لے، رضا ! سب چلے مدینے کو میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے شاعر: امام احمد رضا خان نعت خواں: اویس رضا قادری हिन्दी ENG اردو

کرم کی اک نظر ہم پر خدا را یا رسول اللہ | Karam Ki Ik Nazar Hum Par Khudara Ya Rasool Allah Lyrics in Urdu

کرم کی اِک نظر ہم پر خُدا را، یا رسول اللہ ! تمہی ہو بے سہاروں کا سہارا، یا رسول اللہ ! غریبوں کے ہیں داتا، بیکسوں کے آپ والی ہیں محبّت آپ کی دِل میں ہے لیکن ہاتھ خالی ہیں اِدھر بھی اپنی رحمت کا اِشارہ، یا رسول اللہ ! پُکارا ہے مدد کو، یا نبی ! ہم غم کے ماروں نے تمھارے در پہ جا کر بھیک مانگی بادشاہوں نے ہمیں بھی آسرا ہے بس تمھارا، یا رسول اللہ ! بنے بِگڑی ہماری، ہم بھی ہیں قسمت کے ماروں میں تمھیں اُمّت ہے پیاری اور تم اللہ کے پیاروں میں بچالو ٹوٹنے سے دِل ہمارا، یا رسول اللہ ! نعت خواں: مسعود رانا الحاج خورشید احمد غلام صابر یوسفی हिन्दी ENG اردو

فراق مدینہ میں دل غم زدہ ہے | Firaq-e-Madina Mein Dil Ghamzada Hai Lyrics in Urdu

فراقِ مدینہ میں دل غم زدہ ہے جِگر ٹُکڑے ٹُکڑے ہُوا جا رہا ہے چُھڑا کر مدینہ، میر ا چین چِھینا بتا نفسِ ظالم تُجھے کیا مِلا ہے دِکھایا ہے دِن یہ مُقَدّر نے مجھ کو نہ شکوہ کسی سے، نہ کوئی گِلہ ہے میری آنکھ سے چِھینا طیبہ کا منظر یہ کِس بات کا تو نے بدلہ لِیا ہے رہُوں بس اِسی غم میں بے چین، سرور ! مُقَدّر نے جو داغِ فُرقت دِیا ہے مُقَدّر سے جس جارہُوں پر، شہا ! ہو نظر میں مدینہ، میری اِلتِجا ہے سُکُوں تھا مجھے کوچۂ مُصطفیٰ میں وطن میں مِرا سب سُکُوں لُٹ گیا ہے میرے دِل کے ارماں رہے دِل ہی دِل میں یہی غم میرے دِل کو تڑپا رہا ہے نہ دُنیا کی فِکریں، نہ غم تھا وہاں پر یہاں آ کے دِل آفتوں میں گِرا ہے پہاڑوں کی دِلکش قطاروں کے جلوے وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے اُنہیں چومنا ہاتھ لہرا کے پیہم وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے عقیدت سے خاکِ مدینہ اُٹھا کر اُسے چومنا آج یاد آ رہا ہے کبھی دیدِ سرور کی حسرت میں ممبر کو تکنا وہ چُھپ چُھپ کے یاد آ رہا ہے کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر جُھکانا نظر آج یاد آ رہا ہے نہ چھوٹے میرے ہاتھ سے اُن کا دامن جِیوں جب تلک، یا خُدا ! یہ دُعا ...

میری زندگی کے رہبر بڑے پیر غوث اعظم | Meri Zindagi Ke Rahbar Bade Peer Ghaus-e-Azam Lyrics in Urdu

میری زندگی کے رہبر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! نہیں تم سا کوئی بہتر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! میرے دل کی آرزو ہے، تیرے آستاں پہ آ کر رہُوں بن کے تیرا نوکر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! اب تو جگا دو قسمت، اپنی دِکھا دو صُورت اے اَولِیا کے سرور بڑے پیر غوثِ اعظم ! شیرِ ببر کو پھاڑا کُتّے نے ایک پل میں تیرا کرم تھا اُس پر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! میں نے پُکارا جب بھی، فوراََ مدد کو آئے فضلِ خدا سے، اختر ! بڑے پیر غوثِ اعظم شاعر: اختر پرواز نعیمی نعت خواں: اختر پرواز نعیمی مفتی عارف رضا قریشی हिन्दी ENG اردو

جو عشق نبی کے جلووں کو سِینوں میں بسایا کرتے ہیں | Jo Ishq-e-Nabi Ke Jalwon Ko Seenon Mein Basaya Karte Hain Lyrics in Urdu

جو عشقِ نبی کے جلووں کو سِینوں میں بسایا کرتے ہیں اللہ کی رحمت کے بادل اُن لوگوں پہ سایہ کرتے ہیں جب اپنے غُلاموں کی آقا تقدیر جگایا کرتے ہیں جنّت کی سند دینے کے لیے روضے پہ بلایا کرتے ہیں مخلوق کی بِگڑی بنتی ہے، خالق کو بھی پیار آ جاتا ہے جب بہرِ دُعا محبوبِ خدا ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے ہیں اے دولتِ عرفاں کے منگتو! اُس در پہ چلو جِس در پہ سدا دِن رات خزانے رحمت کے سرکار لُٹایا کرتے ہیں گردابِ بلا میں پھنس کے کوئی طیبہ کی طرف جب تکتا ہے سُلطانِ مدینہ خود آ کر کشتی کو تِرایا کرتے ہیں وہ نزع کی سختی ہو، اے دل! یا قبر کی مُشکل منزل ہو وہ اپنے غُلاموں کی اکثر امداد کو آیا کرتے ہیں ہے شُغل ہمارا شام و سحر اور ناز، سِکَندر ! قسمت پر محفل میں رسولِ اکرم کی ہم نعت سُنایا کرتے ہیں شاعر: سکندر لکھنوی نعت خواں: اویس رضا قادری हिन्दी ENG اردو

خوشبوؤں سے در و دیوار سنور جاتے ہیں | Khushbuon Se Dar-o-Deewar Sanwar Jate Hain Lyrics in Urdu

خوشبوؤں سے دَر و دِیوار سنور جاتے ہیں جس گلی سے میرے سرکار گُزر جاتے ہیں محفلِ آلِ نبی گھر میں سجاتے رہیے ذکرِ شَبّیر سے حالات سنور جاتے ہیں اپنی بخشش کی سند میں نے اُنہیں مانا ہے ذکرِ سرکار میں لمحے جو گُزر جاتے ہیں شہرِ سرکار کی نُورانی فضا زندہ باد روشنی لینے جہاں شمس و قمر آتے ہیں بالیقیں نعت کے اشعار وہی ہیں سچّے کان میں پڑھتے ہی جو دِل میں اُتر جاتے ہیں عظمتِ شہرِ مدینہ ہو بیاں کیسے جہاں نوری قُدسی بھی سمیٹے ہوئے پَر آتے ہیں نعت خواں: ممتاز ٹانڈوی हिन्दी ENG اردو

محبوب کے در پر جاؤں وہ وقت مبارک آئے | Mahboob Ke Dar Par Jaun Wo Waqt-e-Mubarak Aaye Lyrics in Urdu

محبوب کے در پر جاؤں، وہ وقتِ مبارک آئے تقدیر اپنی چمکاؤں، وہ وقتِ مبارک آئے جب پیشِ نظر ہوں میرے، مینار و گنبد تیرے میں غش کھا کر گِر جاؤں، وہ وقتِ مبارک آئے پھر زیرِ گنبدِ خضرا، رو رو کے دست بستہ سب حال میں اُن کو سُناؤں، وہ وقتِ مبارک آئے دِل کو اپنے سمجھا کر، دِیدار کی آس دِلا کر رو رو کے میں سو جاؤں، وہ وقتِ مبارک آئے وہ خواب میں میرے آئیں، اے کاش! کرم فرمائیں میں قدموں میں گِر جاؤں، وہ وقتِ مبارک آئے ہے دل کا، عُبید ! یہ ارماں، پِھر بن کر اُن کا مِہماں دربار میں نعت سُناؤں، وہ وقتِ مبارک آئے شاعر: اویس رضا قادری نعت خواں: اویس رضا قادری हिन्दी ENG اردو

کوئے جاناں میں یار جا نہ سکا | Koo-e-Janan Mein Yaar Ja Na Saka Lyrics in Urdu

کُوئے جاناں میں، یار! جا نہ سکا زخم دِل کے اُنہیں دِکھا نہ سکا سانس تھی آخری میری اُس دم داستانِ الم سُنا نہ سکا اِک فقط اُس مدینے والے کے ناز میرے کوئی اُٹھا نہ سکا جُرم اِتنے تھے باخُدا میرے کوئی اُن کے سِوا چُھپا نہ سکا جس نے دیکھا وہ گنبدِ خضرا اپنی نظروں کو پھر ہٹا نہ سکا داغِ عصیاں ہیں اِتنے چہرے پر رُخ سے پردہ کبھی ہٹا نہ سکا تذکرہ کب ہُوا تھا کربل کا آج تک میں اِسے بُھلا نہ سکا اُس کو کہتے ہیں فاطمہ زہرا جس پہ اُنگلی کوئی اُٹھا نہ سکا جیسا اصغر نے تیر کھایا ہے تیر ایسا کوئی بھی کھا نہ سکا سُن کے خُطبہ وہ حُرّ چلے آئے خُلد میں تو یزید آ نہ سکا جانے کیا ہوگا تیرا محشر میں نجدِیا گر اُنہیں منا نہ سکا یہ کرم ہے میرے رضا خاں کا سُنِّیَت کو کوئی ہِلا نہ سکا ذاتِ اختر رضا کے جیسی ابھی یہ زمانہ مِثال لا نہ سکا کوشِشیں کیں بہت زمانے نے شمعِ ایماں میری بُجھا نہ سکا عشق سینے میں ہے مُقیم اُن کا دِل تو دنیا سے میں لگا نہ سکا نعت خواں: ذاکر اسماعیلی हिन्दी ENG اردو

مہرباں مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے | Mehrban Mujh Pe Nabiyon Ka Agar Sardar Ho Jaye Lyrics in Urdu

مہرباں مجھ پہ نبیوں کا اگر سردار ہو جائے یہ دعویٰ ہے کہ عاصی خلد کا حقدار ہو جائے زمانے کا ستایا ہوں، پریشاں حال رہتا ہوں کرم کی اِک نظر مجھ پر مِرے سرکار ہو جائے فقط میں ہی نہیں بلکہ سبھی عُشّاق کہتے ہیں کسی دن، یا رسول اللہ ! تیرا دیدار ہو جائے میں پلکوں سے بُہارُوں گا، مِرے آقا ! تِری گلیاں بلاوا ایک دن میرا، مِرے سرکار ! ہو جائے قسم اللہ کی، گلیاں مدینے کی سُہانی ہیں وہاں اِک بار جانا ہو تو بیڑا پار ہو جائے تمنّا ہے دلِ سجّاد کی مُدّت سے، اے مولا ! نظارہ گنبدِ خضرا مجھے اِک بار ہو جائے شاعر: سجاد نظامی نعت خواں: سجاد نظامی हिन्दी ENG اردو

منگتوں کو سلطان بنایا میرے مدنی آقا نے | Mangton Ko Sultan Banaya Mere Madani Aaqa Ne Lyrics in Urdu

منگتوں کو سُلطان بنایا میرے مدنی آقا نے جب اپنا دربار سجایا میرے مدنی آقا نے جس پر اپنا رنگ چڑھایا میرے مدنی آقا نے داتا فرید اور خواجہ بنایا میرے مدنی آقا نے خود تو ٹھہرے ختمِ رُسُل اور غوث پِیا جیلانی کو ولیوں کا سُلطان بنایا میرے مدنی آقا نے مال و زر کی بات نہیں ہے، یہ تو کرم کی باتیں ہیں جس کو چاہا در پہ بلایا میرے مدنی آقا نے جس کو حقارت سے دنیا نے دیکھا اور مُنہ پھیر لیا اُس کو بھی سینے سے لگایا میرے مدنی آقا نے اُن کا تَصَوُّر کرتے کرتے نِیند، علیم ! جب آئی مجھے مجھ کو اپنا جلوہ دِکھایا میرے مدنی آقا نے شاعر: علیم الدین علیم نعت خواں: الحاج خورشید احمد اویس رضا قادری شیرباز قادری हिन्दी ENG اردو

خدایا عشق محمد میں وہ مقام آئے | Khudaya Ishq-e-Muhammad Mein Wo Maqam Aaye Lyrics in Urdu

خدایا ! عشقِ مُحمّد میں وہ مقام آئے کہ سانس بعد میں پہلے نبی کا نام آئے مِرا گدا، مِرا نوکر، مِرا غُلام آئے خدا کرے کہ مدینے سے یہ پیام آئے غُلام بن کے مدینے میں آج تک جو گیا کبھی یہ ہو نہیں سکتا کہ وہ ناکام آئے نبی کی آل سے اُلفت اِنعامِ قُدرت ہے ہماری آل کی قسمت پہ یہ اِنعام آئے نظر ہو گُنبدِ خضرا پہ اجل آ جائے میری حیاتی کا کچھ ایسا اختتام آئے میں اشکبار ہوا جب تو یہ دُعا کی ہے بَروزِ حشر تِرے نوکروں میں نام آئے میری حیات کے لمحے بسر ہوں ایسے، ضیاء ! کبھی دُرود لبوں پر، کبھی سلام آئے نعت خواں: راؤ حسان علی اسد غلام مصطفیٰ قادری हिन्दी ENG اردو

جو گزری ہے وہ کس کس کو بتائیں یا رسول اللہ | Jo Guzri Hai Wo Kis Kis Ko Batayen Ya Rasoolallah Lyrics in Urdu

جو گزری ہے وہ کس کس کو بتائیں، یا رسول اللہ ! کسے حالِ دلِ مضطر سنائیں، یا رسول اللہ ! یہ حسرت ہے کہ تصویرِ ادب بن کر مواجہ میں چراغِ دیدۂ پُر نم جلائیں، یا رسول اللہ ! پڑا ہوں رکھ کے زنجیرِ غُلامی آپ کے در پر سجائی ہیں لبوں پر التجائیں، یا رسول اللہ ! بدن پر اَنْ گِنَتْ زخموں کے اب تک ہیں نِشاں باقی اِنہیں دامانِ رحمت میں چُھپائیں، یا رسول اللہ ! مِرے آنسو بھی لے جائیں، مِری آنکھیں بھی لے جائیں مدینے کی طرف جاتی ہوائیں، یا رسول اللہ ! مدینے میں کھڑا ہے ایک مجرم ہتھکڑی پہنے اِسے بھی عمر بھر کی ہوں سزائیں، یا رسول اللہ ! نکل کر قبرِ انور سے دِلاسہ دیں غُلاموں کو سجی ہیں ہر قدم پر کربلائیں، یا رسول اللہ ! ادب کی اوڑھنی لے کر درِ اقدس پہ آ جائیں کہاں جنگل میں بھٹکیں گی صدائیں، یا رسول اللہ ! سوئے افلاک اُڑنے سے ذرا پہلے مواجہ پر دُرودِ پاک پڑھتی ہیں دعائیں، یا رسول اللہ ! نہیں پانی کا قطرہ آب خوروں میں کوئی باقی کرم کی بھیج دیں کالی گھٹائیں، یا رسول اللہ ! کھڑی رہتی ہیں اپنے گھر کے دروازے میں پہروں تک کدھر جائیں جواں بیٹوں کی مائیں، یا رسول اللہ ! تَصَوُّر میں جوارِ...

نرالی ہے جو دنیا سے وہ شفقت باپ کرتا ہے | Nirali Hai Jo Duniya Se Wo Shafqat Baap Karta Hai Lyrics in Urdu

نرالی ہے جو دنیا سے وہ شفقت باپ کرتا ہے انوکھی اپنے بچّوں سے محبّت باپ کرتا ہے یہ بچّے عمر بھر اِس کا بھی بدلہ دے نہیں پاتے اکیلا ایک دِن میں جتنی محنت باپ کرتا ہے سبھی رِشتے بھی پیارے ہیں مگر اولاد کی خاطر کسی سے جو نہیں ہوتی وہ ہمّت باپ کرتا ہے کبھی سوچا بھی ہے تم نے، کِھلونے توڑنے والو ! تمہارے خواب ہوتے ہیں حقیقت باپ کرتا ہے زمانے کی سبھی مجبوریوں سے لڑ کے، فاروقی ! سبھی بچّوں کی پُوری ہر ضررت باپ کرتا ہے شاعر: سہیل کلیم فاروقی نعت خواں: قاری شاہد محمود قادری عظمت رضا بھاگلپوری हिन्दी ENG اردو

ان کی رحمت سے طلبگار چلا جائے گا | Unki Rahmat Se Talabgar Chala Jayega Lyrics in Urdu

اُن کی رحمت سے طلبگار چلا جائے گا وہ بلائیں تو گُنہگار چلا جائے گا شہرِ مکّہ سے مدینے کی طرف جانا ہے آپ ہوں جس کے مددگار چلا جائے گا اِس لیے نجدی وہابی سے نہیں مِلتا میں میرے سینہ سے تیرا پیار چلا جائے گا ہند میں رہ کے مدینے کی طرف دیکھتا ہوں دُور رہتا ہوں، تو کیا پیار چلا جائے گا جاگتی آنکھوں سے دیکھا ہے مدینہ جس نے کون کہتا ہے کہ وہ نار چلا جائے گا خُلد کے سارے ہی دروازے کُھلیں گے اُس پر طیبہ ہو کر جو وفادار چلا جائے گا یہ غمِ عشقِ نبی ہے اِسے اندر رکھیے پھر نہ لوٹے گا جو اِک بار چلا جائے گا اِک مُحمّد کی اگر بات ہٹا لی جائے ذاتِ انسان کا مِعْیَار چلا جائے گا آپ کے روضے پہ آتا ہوں تو شرم آتی ہے دُور ہی سے یہ گنہگار چلا جائے گا سر اُٹھانے کا تَصَوُّر ہے یہاں بے ادبی سر جُھکا کر یہ گنہگار چلا جائے گا ہجرِ طیبہ کا تَصَوُّر ہے قیامت جیسا مر کے لوٹے گا جو اِک بار چلا جائے گا گر تیرے نام پہ مرنے کو بُلایا جائے جو تیرا ہوگا سرِ دار چلا جائے گا نعت خواں: غلام نور مجسم हिन्दी ENG اردو

فضل رب پاک سے بھائی میرا دولہا بنا | مدنی سہرا | Fazl-e-Rabb-e-Pak Se Bhai Mera Dulha Bana Lyrics in Urdu

فضلِ ربِّ پاک سے بھائی میرا دولہا بنا خوشنما پُھولوں کا اِس کے سر پہ ہے سہرا سجا آج مولیٰ بخش فضلِ رب سے ہے دولہا بنا خوشنما پُھولوں کا اِس کے سر پہ ہے سہرا سجا اِس کی شادی خانہ آبادی ہو، ربِّ مصطفیٰ ! از طفیلِ غوث و خواجہ، از پئے احمد رضا اُن کی زَوجہ، یا خدا ! کرتی رہے پردہ سدا از طفیلِ حضرتِ عثماں غنئ باحیا تُو سدا رکھنا سلامت اِن کا جوڑا، کردگار ! اِن کو جھگڑوں سے بچانا از طفیلِ چار یار اِن کو خوشیاں دو جہاں میں تُو عطا کر، کبریا ! کچھ نہ چھائے اِن پہ غم کی، رنج کی کالی گھٹا تُو نحوست سے اِنہیں فیشن کی، اے مولیٰ ! بچا سُنّتوں پر یہ عمل کرتے رہیں، یا رب ! سَدا نیک اولاد اِن کو، مولیٰ ! عافِیَت سے ہو عطا واسِطہ، یا رب ! مدینے کی مبارک خاک کا یا الٰہی ! جب تلک دونوں یہاں جیتے رہیں سُنّتوں کی خُوب خدمت یہ سدا کرتے رہیں اس طرح مہکا کرے یہ گھر کا گھر، پیارے خُدا ! پُھول مہکا کرتے ہیں جیسے مدینے کے سدا یا الٰہی ! دے سعادت اِن کو حج کی بار بار بار بار اِن کو دِکھا میٹھے مُحمّد کا دِیار ہو بقیعِ پاک میں دونوں کو مدفن بھی عطا سبز گنبد کا تجھے دیتا ہوں، مولیٰ ! واسِطہ...

سارے عالم کی مٹی میں جلوہ فگن جتنے ذرے ہیں اتنے درود آپ پر | Sare Aalam Ki Matti Mein Jalwa-figan Jitne Zarre Hain Utne Durood Aap Par Lyrics in Urdu

سارے عالم کی مٹّی میں جلوہ فگن جتنے ذرّے ہیں اُتنے درود آپ پر باغِ کونین کے سارے اشجار میں جتنے پتّے ہیں اُتنے درود آپ پر چشمِ انساں سے اشکوں کے ٹپکے ہوئے جتنے قترے ہیں اُتنے درود آپ پر آسماں کے دوشالے میں ٹانکے ہوئے جتنے تارے ہیں اُتنے درود آپ پر ساری تقریر و تحریرِ انسان میں، ربِّ کونین کے سارے قرآن میں جس قدر حرف ہیں اور ہر حرف کے جتنے نقطے ہیں اُتنے درود آپ پر ذرّہ و آفتاب و مہ و کہکشاں، رنگِ رُخسارِ گُل حُسنُ روئے بُتاں میرے کہنے کا مطلب ہے تخلیق کے جتنے جلوے ہیں اُتنے درود آپ پر اے علیم ! اب خدا سے یہ فریاد ہے، اُس کو معلوم عصیاں کی تعداد ہے میرے اعمال نامے کے صفحات پر جتنے دھبّے ہیں اُتنے درود آپ پر شاعر: ڈاکٹر علیم عثمانی نشید خواں: حافظ حسان انزر हिन्दी ENG اردو

دلوں سے غم مٹاتا ہے محمد نام ایسا ہے | Dilon Se Gham Mitata Hai Muhammad Naam Aisa Hai Lyrics in Urdu

دِلوں سے غم مِٹاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے نگر اُجڑے بساتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے اُنہیں کے نام سے پائی فقیروں نے شہنشاہی خُدا سے بھی ملِاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے اُنہیں کے ذکر سے روشن رُتیں پھر لوٹ آتی ہیں نصیبوں کو جگاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے درودوں کی مہک سے محفلیں آباد رہتی ہیں میری نعتیں سجاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے محبّت کے کنول کِھلتے ہیں اُن کو یاد کرنے سے بڑی خُشْبُوئیں لاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے مدد حاصل ہے مجھ کو ہر گھڑی شاہِ مدینہ کی میری بِگڑی بناتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے میں، فخری ! فکرِ دنیا آخرت سب بُھول جاتا ہوں مجھے جب یاد آتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے شاعر: زاہد فخری نعت خواں: افضل نوشاہی میلاد رضا قادری مُحمّد حسین نقشبندی हिन्दी ENG اردو

فلک پر چاند جیسا ہے نبی کا نام ایسا ہے | Falak Par Chand Jaisa Hai Nabi Ka Naam Aisa Hai Lyrics in Urdu

فلک پر چاند جیسا ہے، نبی کا نام ایسا ہے دِلوں سے غم مِٹاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے یہ دل جب غم کا مارا ہو مُحمّد یاد آتے ہیں جُدا جب کوئی پیارا ہو، مُحمّد یاد آتے ہیں فلک پر چاند جیسا ہے، نبی کا نام ایسا ہے دِلوں سے غم مِٹاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے کہ اُن کی یاد کی شبنم ہے مرہم میرے زخموں کا اور اُن کے نام کی برکت سے دِل تسکین پاتا ہے فلک پر چاند جیسا ہے، نبی کا نام ایسا ہے دِلوں سے غم مِٹاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے کِسی کا دِل دُکھاؤ نہ ستاؤ خلقِ باری کو مہربانی کا ہر رَستہ مدینے کو ہی جاتا ہے فلک پر چاند جیسا ہے، نبی کا نام ایسا ہے دِلوں سے غم مِٹاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے بنو تم سائِباں میٹھا نبی کی ساری اُمّت پر یہی اُلفت، یہی چاہت نبی کا نام دیتا ہے فلک پر چاند جیسا ہے، نبی کا نام ایسا ہے دِلوں سے غم مِٹاتا ہے، مُحمّد نام ایسا ہے شاعر: ابو احمد نعت خواں: حسان فاروق محمود حذیفہ हिन्दी ENG اردو

نبی کی نعت پڑھتا ہوں دل مضطر مچلتا ہے | Nabi Ki Naat Padhta Hun Dil-e-Muztar Machalta Hai Lyrics in Urdu

نبی کی نعت پڑھتا ہوں، دلِ مضطر مچلتا ہے خدا کے فضل سے میرا مُقَدَّر بھی سنورتا ہے جو عاشق ہے امام الانبیاء کا وہ تَصَوُّر میں یہیں سے گنبدِ خضراء کا جلوہ دیکھ لیتا ہے نبی سے جس کو اُلفت ہے وہی جنّت میں جائے گا بلالی عشق دنیا میں یہی اعلان کرتا ہے نبی کے عشق میں پڑھ لے نمازِ پنجگانہ جو اُسی کا دِل چمکتا ہے، اُسی کا رُخ چمکتا ہے بہت ہی خوبصورت ہے میرے سرکار کا روضہ کوئی جب دیکھ لیتا ہے زمانہ بُھول جاتا ہے اِشارا آپ کا پا کر حجر بھی بول اُٹھتے ہیں دُعا سے آپ کی سورج پلٹ کر لوٹ آتا ہے مصیبت جب بھی آتی ہے، تیرا میں نام لیتا ہوں تیری تَوصِیف کے صدقے میرا ہر کام بنتا ہے دِکھا دے مجھ کو بھی، مولیٰ ! رسُولِ پاک کا روضہ مدینہ دیکھنے کو دِل میرا ہر پل مچلتا ہے سُکُونِ قلب مِلتا ہے، دِوَانے جُھوم جاتے ہیں کہ رِضواں جُھوم کر جب بھی نبی کی نعت پڑھتا ہے شاعر: رضوان محبوبی نعت خواں: صندلی احمد हिन्दी ENG اردو

اپنے دامان شفاعت میں چھپائے رکھنا | میرے سرکار میری بات بنائے رکھنا | Apne Daman-e-Shafaat Mein Chhupaye Rakhna Lyrics in Urdu

اپنے دامانِ شفاعت میں چُھپائے رکھنا میرے سرکار ! میری بات بنائے رکھنا آپ کی یاد سے آباد ہے دِل میرا، حضور ! بندہ پَرور ! میری ہستی کو بسائے رکھنا آپ یاد آئیں تو پھر یاد نہ آئے کوئی غیر کی یاد میرے دل سے بُھلائے رکھنا اِسی منصب کا طلبگار ہوں میں بھی، آقا ! خاک ہُوں میں، مجھے قدموں سے لگائے رکھنا جب سوا نیزے پہ خورشیدِ قیامت ہوگا اپنی زُلفوں کے گنہگار پہ سائے رکھنا میں نے مانا کہ نکمّا ہُوں، مگر آپ کا ہُوں مجھ نکمّے کو بھی، سرکار ! نِبھائے رکھنا اُن کے ہو جاؤ، ہر اِک چیز اُنہیں سے مانگو اپنے دامن میں نہ احسان پرائے رکھنا اُن کے آنے کی گھڑی ہے، وہ ہیں آنے والے میرے سرکار کی محفل کو سجائے رکھنا شاید اِس راہ سے، خالد ! میرے آقا گُزریں اپنی پلکوں کو سرِ راہ بِچھائے رکھنا شاعر: سید خالد عبداللہ اشرفی نعت خواں: اویس رضا قادری ذوالفقار علی حسینی حافظ طاہر قادری हिन्दी ENG اردو

اعلان کھل کے کرتی ہے اُمّت رسول کی | Elaan Khul Ke Karti Hai Ummat Rasool Ki Lyrics in Urdu

اعلان کُھل کے کرتی ہے اُمّت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی آقا سے پیار کرنا ہی مومن کی شان ہے سرشار اُن کے عشق میں یہ جسم و جان ہے سرمایۂ حیات ہے اُلفت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی اعلان کُھل کے کرتی ہے اُمّت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی گُلشن میں ساری نغمہ سرائی ہے آپ سے شمس و قمر کی جلوہ نمائی ہے آپ سے دُنیائے رنگ و بُو میں ہے نکہت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی اعلان کُھل کے کرتی ہے اُمّت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی تفریقِ رنگ ونسل مِٹائی ہے آپ نے جنّت کی شاہ راہ دِکھائی ہے آپ نے عالم میں عام و تام ہے رحمت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی اعلان کُھل کے کرتی ہے اُمّت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی یہ غُنچہ و گُلاب، یہ بُلبُل یہ گُلْسِتاں رحمت لقب نبی کا ہی صدقہ ہے یہ جہاں بھنورے بھی گُنگُناتے ہیں مِدحت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی اعلان کُھل کے کرتی ہے اُمّت رسول کی ہر دِل میں جاگُزِیں ہے محبّت رسول کی تو بھی تو، اے حفیظ ! اُنہیں کا غلام ہ...

مرحبا کیا روح پرور ہے نظارا نور کا | صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا تضمین کے ساتھ | Marhaba Kya Rooh Parwar Hai Nazara Noor Ka Lyrics in Urdu

مرحبا کیا روح پرور ہے نظارا نور کا فرش سے تا عرش پھیلا ہے اُجالا نور کا تاجدارِ شرق سائل بن کے نِکلا نور کا صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا جشنِ نورانی ہے ہر جانب ہے چرچا نور کا انجمن آرا ہوا مکّہ میں کعبہ نور کا ماہِ حق تشریف لایا بن کے قبلہ نور کا بارہویں کے چاند کا مُجرا ہے سجدہ نور کا بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا بڑھ گیا پا کر جبینِ نور رُتبہ نور کا دور پہنچا نور کی دنیا سے شہرہ نور کا اللہ اللہ کوئی دیکھے تو نصیبا نور کا تیرے ہی ماتھے رہا، اے جان ! سہرا نور کا بخت جاگا نور کا، چمکا ستارا نور کا نور کی سرکار میں آیا ہے منگتا نور کا ہے یہی دُر بار دربارِ مُعلّیٰ نور کا ایک مُدّت سے دلِ مضطر ہے پیاسا نور کا میں گدا تُو بادشاہ بھر دے پِیالہ نور کا نور دِن دونا تِرا، دے ڈال صدقہ نور کا فرقِ انور نور کی، دستار چہرہ نور کا سادگی میں بھی ہے اِک انداز پیارا نور کا کجکُلاہی پر کچھ ایسا رُعب چھایا نور کا تاج والے ! دیکھ کر تیرا عِمامہ نور کا سر جُھکاتے ہیں الٰہی بول بالا نور کا کِس قدر مسرور ہے ہر ایک منگتا نور کا...

رونق ارض و سما کچھ اور ہے | Raunaq-e-Arz-o-Sama Kuchh Aur Hai Lyrics in Urdu

رونقِ ارض و سما کچھ اور ہے شہرِ طیبہ کی ہوا کچھ اور ہے چاند کو وہ جوڑتے ہیں توڑ کر مُعجزے پہ مُعجزہ کچھ اور ہے لَنْ تَرَانِیْ سے نفی ظاہر ہوئی اُدْنُ مِنِّی کی صدا کچھ اور ہے سیکڑوں جنگیں ہوئیں اسلام میں کربلا کا واقِعَہ کچھ اور ہے پھینک کے خنجر عمر کہنے لگے اب ہمارا فیصلہ کچھ اور ہے باپ کے احسان پر کچھ شک نہیں ہاں مگر ماں کی دعا کچھ اور ہے ترجمہ کتنوں نے قرآں کا کیا جو رضا نے ہے کیا کچھ اور ہے ہیں، مُبارک ! سیکڑوں سِنفیں مگر نعت گوئی کا مزہ کچھ اور ہے شاعر: مبارک حسین مبارک نعت خواں: مبارک حسین مبارک ضیا یزدانی हिन्दी ENG اردو

زمانہ بہت خوبصورت ہے لیکن مدینے کے بازار جیسا نہیں ہے | Zamana Bahut Khubsurat Hai Lekin Madine Ke Bazar Jaisa Nahin Hai Lyrics in Urdu

زمانہ بہت خوبصورت ہے لیکن مدینے کے بازار جیسا نہیں ہے سبب اِس کا یہ ہے کہ ساری زمیں پر کہیں اور آقا کا روضہ نہیں ہے اذانیں بھی ہوتیں، نمازیں بھی ہوتیں، بہت علم ہوتا مگر یہ بھی ہوتا نبی کے نواسے نہ گردن کٹاتے تو سب کہتے اسلام زندہ نہیں ہے کوئی چڑھتے سُورج سے کہہ دے کسی دن، بھری دو پہر میں تجھے دیکھ لونگا ابھی میری آنکھیں مُکمّل نہی ہیں، ابھی اُن کا در میں نے دیکھا نہیں ہے وہ جب چاہیں مشکل کو آسان کر دیں، وہ جب چاہیں منگتوں کو سُلطان کر دیں شہِ دیں کا دستِ عنایت نہ پُوچھو، سمندر بھی اِتنا کُشادہ نہیں ہے شاعر: شکیل آرفی فرخ آبادی نعت خواں: شکیل آرفی فرخ آبادی हिन्दी ENG اردو

مدینہ پہنچا ہے جب دِوانہ کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے | Madina Pahuncha Hai Jab Diwana Kabhi Idhar Se Kabhi Udhar Se Lyrics in Urdu

مدینہ پہنچا ہے جب دِوانہ کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے نبی کی چوکھٹ کو اُس نے چوما کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے بہ روزِ محشر پریشاں ہو کر اُنہیں پُکارے گی جِس دم اُمّت سبھی کو دیں گے نبی سہارا کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے تماشہ اِتنا تو کر گُزرنا، نبی کا دِیوانہ ہو کے مرنا کہ لوگ دیکھیں تیرا جنازہ کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے کبھی تو غوث الوریٰ کے در سے، کبھی تو خواجہ پِیا کے گھر سے نِکل ہی جاتا ہے کام اپنا کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے اِدھر بریلی اُدھر کِچھوچھا، وہاں پہ کلیر یہاں پہ دیوا مِلا ہے ولیوں کا ہم کو صدقہ کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے قصیدہ بُو بکر کا پڑھا تھا، عمر کی تعریف کر رہا تھا علی نے مجھ کو بہت نوازا کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے بچانے دینِ نبی کی عظمت جو رن میں نِکلا علی کا بیٹا یزیدی کُتّوں کو جم کے مارا کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے بچانے دینِ نبی کی عظمت جو رن میں نِکلا رضا کا اختر وہابِیوں کو پٹک کے مارا کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے میری زباں پر جو نامِ نامی امام احمد رضا کا آیا لگا ہے محفل میں خُوب نعرہ کبھی اِدھر سے کبھی اُدھر سے خدا نے حُسن و جمال واللہ...